بنایا تمہیں حق نے مختار و حاکم
وہ کیا ہے نہیں جس پہ قبضہ تمہارا
کیا حق نے بھر کمالات تم کو
نہ پایا کسی نے کنارہ تمہارا
میسر کسی کو نہیں ایسی رفعت
کہ جیسا ہوا پایہ بالا تمہارا
رَفَعْنَا کا جلوہ دکھانے کو حق نے
لکھا عرش پر نام والا تمہارا
قبائل کے حصے کیے جب خدا نے
کیا سب سے اعلیٰ قبیلہ تمہارا
اذانوں میں خطبوں میں شادی و غم میں
غرض ذکر ہوتا ہے ہر جا تمہارا
یہ فرشِ زمیں ہے تمہاری ہی خاطر
بنا ہے سما شامیا نہ تمہارا
منور ہوا آسمانِ رسالت
اجالا ہے ایسا دل آرا تمہارا