بندۂ بدکار ہوں بے حد ذلیل و خوار ہوں
مغفرت فرما الہی! تُو بڑا غفار ہے
موت کے جھٹکوں پہ جھٹکے آرہے ہیں المَدَد
سخت بے چینی کے عالم میں گھرا بیمار ہے
اب سَرِ بالیں خُدارا مسکراتے آئے
جاں بلب شاہِ مدینہ طالبِ دیدار ہے
غُسل دینے کے لئے غَسّال بھی اب آچکا
غُسل مَیّت ہو رہا ہے اور کفن تیار ہے
یانبی! پانی سے سارا جسم میرا ڈھل گیا
نامۂ اعمال کو بھی غُسل اب درکار ہے
لاد کر کندھوں پہ احباب آہ! قبرستاں چلے
واسطے تدفین کے گہرا گڑھا تیار ہے
قبر میں مجھ کو لٹا کر مٹی ڈال کر
چل دیے ساتھی نہ پاس اب کوئی رشتہ دار ہے