بیاں تم سے کروں کس واسطے میں اپنی حالت کا
کہ جب تم پر عیاں ہے ہر دم ساری خلقت کا
خدائی بھر کے مالک ہو خدائی تم سے باہر ہے
نہ کوئی ہے نہ ہوگا حشر تک تم سی حکومت کا
نہ کیوں شاہ و گدا پھیلائیں جھولی آستانے پر
کہ رکھا حق نے تیرے سر پہ تاج اپنی نیابت کا
تو وہ ہے ظلِ حق نُورِ مجسّم پرتوِ قدرت
پسند آیا ترے صانع کو نقشہ تیری صورت کا
مرے والی تیرے صدقے میں ہم سے نابکاروں نے
لقب قرآں میں پایا ہے خدا سے خیرِ اُمت کا
انہیں کیا خوف ہو عُقبیٰ کا اور کیا فکرِ دنیا کی
جمائے بیٹھے ہیں جو دل پہ نقشہ تیری صورت کا