بھرے اس میں اسرار و علمِ دو عالم
کشادہ کیا حق نے سینہ تمہارا
بِحکمِ خدا تم ہو موجود ہر جا
بظاہر ہے طیبہ ٹھکانہ تمہارا
تمہاری صفتِ حق نے فرمائی شاہد
ہر اک جا ہے موجود جلوہ تمہارا
کسی جا ہے طہٰ و یٰسین کہیں پر
لقب ہے سراجاً مُنیرا تمہارا
جسے حق کے دیدار کی آرزو ہو
وہ دیکھے مری جان چہرہ تمہارا
خدا ہم کو بخشے وہ چشمِ خدا بیں
رہے کچھ نہ پردہ ہمارا تمہارا
کیا تم کو نورِ مجسم خدا نے
زمیں پر نہیں پڑتا سایہ تمہارا
کمالوں کا مخزن جمالوں کا گلشن
خدا نے بنایا گھرانہ تمہارا