دوعالم میں روشن ہے اکا تمہارا
ہوا لامکاں تک اجالا تمہارا
نہ کیوں گائے بلبل ترانہ تمہارا
کہ پاتی ہے ہر گل میں جلوہ تمہارا
زمیں والے کیا جانیں رتبہ تمہارا
ہے اونچا فلک سے پھریرا تمہارا
پڑھا بے زبانوں نے کلمہ تمہارا
ہے سنگ و شجر میں بھی چرچا تمہارا
چھٹرا ئے گا غم سے اشارہ تمہارا
اتارے گا پل سے سہارا تمہارا
تمہیں ہو جوابِ سوالاتِ محشر
تمہیں کو پکارے گا بندہ تمہارا
فترضیٰ کی یہ پیاری پیاری صدا ہے
کہ ہوگا قیامت میں چاہا تمہارا