عید میلادُالنَّبی ہے دل بڑا مَسُرور ہے
ہر طرف ہے شادمانی رنج و غم کافور ہے
اس طرف جو نور ہے تو اُس طرف بھی نور ہے
ذرّہ ذرّہ سب جہاں کا نُور سے معمور ہے
ہر مَلَک ہے شادماں خوش آج ہر اک حُور ہے
ہاں! مگر شیطان مَع رُفقا بڑا رَنجُور ہے
آمدِ سرکار سے ظُلمت ہوئی کافُور ہے
کیا زمیں کیا آسماں ہر سَمت چھایا نور ہے
جشنِ میلادُالنَّبی ہے کیوں نہ جھومیں آج ہم
مسکراتی ہیں بہاریں سب فَضا پُر نُور ہے
ہو رہی ہیں چار جانب بارشیں انوار کی
دشت و کہسار و چمن ہر شے پہ چھایا نور ہے
مل کے دیوانو! پڑھو سارے دُرود اب جھوم کر
آج وہ آیا جہاں میں جو سراپا نور ہے
آمنہ تجھ کو مبارک شاہ کا میلاد ہو
تیرا آنگن نور، تیرا گھر کا گھر سب نور ہے
غمزدوا! تم کو مبارک! غم غلط ہو جائیں گے
آ گیا وہ جس کے صَدقے ہر بلا کافور ہے
آج دیوانے مدینے کے سبھی ہیں شادماں
بیٹھے آقا کی ولادت سے ہر اک مَسُرور ہے
بخشش دے مجھ کو الہی بحرِ میلادُالنَّبی
نامہ اعمال عِصیاں سے مرا بھرپور ہے
گُنبدِ خَضرا کا اُس کو بھی تو اب دیدار ہو
یاالہی! جو مدینے سے ابھی تک دور ہے
آپ کی نظرِ کرم سے کام بنتے ہی گئے
ورنہ آقا یہ گدا تو بے کس و مجبور ہے
یاالہی! اپنے پیارے کا عطا ہو غم مجھے
خوش نصیبی اُس کی اُن کے غم میں جو رَنجور ہے
شان کیا پیارے عمامے کی بیاں ہو یانبی
تیرے نَعلِ پاک کا ہر ذرّہ رَشکِ طور ہے
صَد کروڑ افسوس! فیشن کی نَحُوست چھا گئی
آہ! اِک تعداد اُن کی سُنّتوں سے دور ہے
”ہوں غلامِ مُصطفٰے“ اپنا تو دعویٰ ہے یہی
کاش! آقا بھی یہ فرما دیں ہمیں منظور ہے
وہ پلائے اہلِ محشر دیکھتے ہی بول اٹھیں
آ گیا عطّار دیکھو عشق میں مَخمور ہے