Home/Muhammad Ilyas Attar Qadri/Ek baar phir Madine Attar ja rahe hain

Ek baar phir Madine Attar ja rahe hain

Written by Muhammad Ilyas Attar Qadri

100%
اک بار پھر مدینے عطَّار جا رہے ہیں آقا مدینے والے در پر بُلا رہے ہیں قسمت کو اس تصوّر سے وَجد آ رہا ہے رحمت کی بھیک دینے آقا بُلا رہے ہیں وہ فیض کا خزانہ ہر دم لٹا رہے ہیں انوار ہر طرف ہی طیبہ میں چھا رہے ہیں جو کوئی اُن کے غم میں آنسو بہا رہے ہیں جینے کا لطف ایسے عُشّاق پا رہے ہیں جس دم مدینے آئیں روئیں پچھڑیں کھائیں ہم مانگ تم سے آقا ایسی ادا رہے ہیں حُسنِ عمل ہمارے پلّے میں کچھ نہیں ہے آہوں کی آنسوؤں کی سوغات لا رہے ہیں منظر ہے روح پرور روضے کی جالیوں پر عُشّاق آنسوؤں کے موتی لٹا رہے ہیں آقا! ہمیں یہ آنکھیں بس آپ ہی کے غم میں ہائے ہمیں زمانے کے غم رُلا رہے ہیں اِذنِ خدا سے ہو تم مختارِ ہر دوعالم دونوں جہاں تمہاری خیرات کھا رہے ہیں دستور ہے کہ جس کا کھانا اُسی کا گانا ہم جس کا کھا رہے ہیں گیت اُس کے گا رہے ہیں مَسکن بنے مدینہ مَدفن بنے مدینہ احمد رضا کا تم کو دیتے واسطہ رہے ہیں آقا! بلاؤ اُن کو بے چین مُضطرب جو دل کو جلا رہے ہیں آنسو بہا رہے ہیں جن کا نہ بھاؤ کوئی دنیا میں پوچھتا ہو سینہ سے ان کو آقا اپنے لگا رہے ہیں امّت کے حال سے ہیں آگاہ ہر گھڑی آپ خوابوں میں آ رہے ہیں بگڑی بنا رہے ہیں دنیا کے غم نے مارا للہ دو سہارا سرکار ٹھوکریں ہم در در کی کھا رہے ہیں اب گھر چکی ہے آقا طوفاں میں اپنی نیا اے ناخدا سہارا مانگ آپ کا رہے ہیں آقا حضور انور! نظر کرم ہو ہم پر ابرِ سیاہِ دل پر عصیاں کے چھا رہے ہیں چشمِ کرم ہو جاناں سوئے گنہگاراں سرکار! نفس و شیطاں ہر دم دبا رہے ہیں اُن سب مُبلغوں کے خوابوں میں اب کرم ہو آقا جو سنّتوں کی خدمت بجا رہے ہیں پروردگارِ عالی دے جذبۂ غزالی کر ہم کو خوش خصالٰی کر یہ دعا رہے ہیں بیماریِ گنہ سے ہم کو شفا دے یارب بن جائیں نیک ہم سب التجا رہے ہیں دولت کی حرص دل سے اللہ دور کر دے عشقِ رسول دے دے کر یہ دعا رہے ہیں تکثیرِ مال و زر کی ہرگز نہیں تمنا ہم مانگ آپ سے بس غم آپ کا رہے ہیں رخصت کی اب گھڑی ہے سر پر اجل کھڑی ہے آجاؤ اب خدارا ہم جاں سے جا رہے ہیں اب لحد میں عزیزو! جلدی اتار بھی دو آہا! وہ مُسکراتے تشریف لا رہے ہیں فریادِ جاں عالم! کوئی نہیں ہے ہمدم سوئے سَقَر فرشتے اب لے کے جا رہے ہیں قربان روزِ محشر دامن کا پردہ ڈھک کر عیبوں کو میرے سرور خود ہی چھپا رہے ہیں محشر میں بندہ پرور لطف و کرم کے پیکر بھر بھر کے جامِ کوثر ہم کو پلا رہے ہیں صدقے میں مرتضیٰ کے سوزِ بلال دے دو یہ عرض لے کر آقا عطّار آ رہے ہیں ان کے کرم کے صدقے فضل و کرم پہ قرباں عطّار کو وہ لیکر جنّت میں جا رہے ہیں