Home/Allama Hasan Raza Khan/Farogh-e-Akhtar-e-Badr Aftab-e-Jalwa-e-Ariz

فروغِ اخترِ بدر آفتابِ جلوۂ عارض

Written by Allama Hasan Raza Khan

100%
فُروغِ اَخترِ بَدر آفتابِ جلوۂ عارِض ضِیائے طالعِ بَدر اُن کا اَبروئے ہلالی ہے وہ ہیں اَللہ والے جو تجھے والی کہیں اپنا کہ تو اَللہ والا ہے ترا اَللہ والی ہے سہارے نے ترے گیسو کے پھیرا ہے بلاؤں کو اِشارے نے ترے اَبرو کے آئی موت ٹالی ہے نگہ نے تیرِ رحمت کے دِلِ اُمت سے کھینچے ہیں مُژہ نے پھانسِ حسرت کی کلیجہ سے نکالی ہے فَقیرو بے نواؤ ا اپنی اپنی جھولیاں بھر لو کہ باڑا بٹ رہا ہے فِیض سرکارِ عالی ہے تُجھی کو خِلعتِ یکتائیِ عالم مِلا حق سے ترے ہی جِسم پر موزوں قبائے بے مِثالی ہے نکالا کب کسی کو بزمِ فِیضِ عام سے تم نے نکالی ہے تو آنے والوں کی حسرت نکالی ہے دَمِ حشر عاصی مزے لے رہے ہیں شفاعت کسی کی ہے رحمت کسی کی رہے دل کسی کی محبت میں ہر دم رہے دل میں ہر دم محبت کسی کی ترا قبضہ کونین و مَا فِیہِمَا پر ہوئی ہے نہ ہو یوں حکومت کسی کی خدا کا دیا ہے ترے پاس سب کچھ ترے ہوتے کیا ہم کو حاجت کسی کی زمانہ کی دولت نہیں پاس پھر بھی زمانہ میں بٹتی ہے دولت کسی کی نہ پہنچیں کبھی عقلِ کُل کے فرشتے خدا جانتا ہے حقیقت کسی کی ہمارا بھروسہ ہمارا سہارا شفاعت کسی کی حمایت کسی کی قمر اک اشارے میں دو ٹکڑے دیکھا زمانہ پہ روشن ہے طاقت کسی کی ہمیں ہیں کسی کی شفاعت کی خاطر ہماری ہی خاطر شفاعت کسی کی مصیبت زدہ شاد ہو تم کہ ان سے نہیں دیکھی جاتی مصیبت کسی کی نہ پہنچیں گے جب تک گنہگار اُن کے نہ جائے گی جنت میں امت کسی کی ہم ایسے گنہگار ہیں زہد والو ہماری مدد پر ہے رحمت کسی کی مدینہ کا جنگل ہو اور ہم ہوں زاہد نہیں چاہیے ہم کو جنت کسی کی ہزاروں ہوں خورشیدِ محشر تو غم کیا یہاں سایہ گشتر ہے رحمت کسی کی بھرے جائیں گے خلد میں اہلِ عصیاں نہ جائے گی خالی شفاعت کسی کی وہی سب کے مالک انہیں کا ہے سب کچھ نہ عاصی کسی کے نہ جنت کسی کی رَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَک پر تَصَدُّق سب اونچوں سے اونچی ہے رفعت کسی کی اترنے لگے مَا رَمَیْتَ ید اللہ چڑھی ایسی زوروں پہ طاقت کسی کی گدا خوش ہوں خیرِ لُک کی صدا ہے کہ دن دُونی ہے بڑھتی دولت کسی کی فَتُرْضٰی نے ڈالی ہیں باہیں گلے میں کہ ہو جائے راضی طبیعت کسی کی خدا سے دُعا ہے کہ ہنگامِ رُخصت زبانِ حَسَن پر ہو مدحت کسی کی