فکرِ اَسفل ہے مری مرتبہ اَعلیٰ تیرا
وَصف کیا خاک لکھے خاک کا پتلا تیرا
طُور پر ہی نہیں موقوف اُجالا تیرا
کون سے گھر میں نہیں جلوۂ زیبا تیرا
ہر جگہ ذِکر ہے اے واجد و یکتا تیرا
کون سی بزم میں روشن نہیں اِکا تیرا
پھر نمایاں جو سرِ طُور ہو جلوہ تیرا
آگ لینے کو چلے عاشقِ شیدا تیرا
خیرہ کرتا ہے نگاہوں کو اُجالا تیرا
کیجئے کون سی آنکھوں سے نظارہ تیرا
جلوۂ یار نرالا ہے یہ پردہ تیرا
کہ گلے مل کے بھی کھلتا نہیں ملنا تیرا
کیا خبر ہے کہ عَلیٰ الْعَرش کے معنی کیا ہیں
کہ ہے عاشق کی طرح عرش بھی جویا تیرا
دشتِ ایمن میں مجھے خاک نظر آئے گا
مجھ میں ہو کر نظر آتا نہیں جلوہ تیرا
ہر سحر نغمۂ مُرغانِ نواسنج کا شور
گونجتا ہے ترے اوصاف سے صحرا تیرا
وحشتِ عشق سے کھلتا ہے تو اے پردۂ راز
کچھ نہ کچھ چاک گریباں سے ہے رشتہ تیرا
سچ ہے انسان کو کچھ کھو کے ملا کرتا ہے
آپ کو کھو کے تجھے پائے گا جویا تیرا
ہیں ترے نام سے آبادی و صحرا آباد
شہر میں ذِکر ترا دشت میں چرچا تیرا
برقِ دیدار ہی نے تو یہ قیامت توڑی
سب سے ہے اور کسی سے نہیں پردہ تیرا
آمدِ حشر سے اک عید ہے مشتاقوں کو
اسی پردہ میں تو ہے جلوۂ زیبا تیرا
سارے عالم کو تو مشتاق تجلّی پایا
پوچھنے جائے اب کس سے ٹھکانا تیرا
خارِ صحرائے نبی پاؤں سے کیا کام تجھے
آمری جان مرے دل میں ہے رستہ تیرا
کیوں نہ ہو ناز مجھے اپنے مقدر پہ کہ ہوں
سگِ تیرا بندہ تیرا مانگنے والا تیرا
اچھے اچھے ہیں ترے دَر کی گدائی کرتے
اونچے اونچوں میں بٹھا کرتا ہے صدقہ تیرا
بھیک بے مانگے فقیروں کو جہاں ملتی ہے
دونوں عالم میں وہ دروازہ ہے کس کا تیرا
کیوں تمنا مری مایوس ہو اے ابرِ کرم
سوکھے دھانوں کا مددگار ہے چھینٹا تیرا
ہائے پھر خندۂ بے جا مرے لب پر آیا
ہائے پھر بھول گیا راتوں کا رونا تیرا
حشر کی پیاس سے کیا خوف گنہگاروں کو
تشنہ کاموں کا خریدار ہے دریا تیرا
سوزنِ گمشدہ ملتی ہے تبسم سے ترے
شام کو صبح بناتا ہے اجالا تیرا
صدق نے تجھ میں یہاں تک تو جگہ پائی ہے
کہہ نہیں سکتے اُلش کو بھی جھوٹا تیرا
خاص بندوں کے تصدق میں رہائی پائے
آخر اس کام کا تو ہے یہ نکما تیرا
بندِ غم کاٹ دیا کرتے ہیں تیرے ابرو
پھیر دیتا ہے بلاؤں کو اشارہ تیرا
حشر کے روز ہنسائے گا خطاکاروں کو
میرے غمخوار دلِ شب میں یہ رونا تیرا
عملِ نیک کہاں نامۂ بدکاراں میں
ہے غلاموں کو بھروسا مرے آقا تیرا
بہرِ دیدار جھک آئے ہیں زمیں پر تارے
واہ اے جلوۂ دلدار چمکنا تیرا
اونچی ہو کر نظر آتی ہے ہر اک شے چھوٹی
جا کے خورشید بنا چرخ پہ ذرہ تیرا
اے مدینے کی ہوا دل مرا افسردہ ہے
سوکھی کلیوں کو کھلا جاتا ہے جھونکا تیرا
میرے آقا ہیں وہ ابرِ کرم اے سوزِ الم
ایک چھینٹے کا بھی ہوگا نہ یہ دہرا تیرا
اب حسن منقبتِ خواجۂ اجمیر سنا
طبع پر جوش ہے رکتا نہیں خامہ تیرا
رشک ہوتا ہے غلاموں کو کہیں آقا سے
کیوں کہوں رشکِ وہِ بدر ہے تلوا تیرا
بشرافضل ہیں مَلک سے تری یوں مدح کروں
نہ مَلک خاص بشر کرتے ہیں مُجرا تیرا
جب سے تو نے قدم غوث لیا ہے سر پر
اولیا سر پہ قدم لیتے ہیں شاہا تیرا
مُحیِ دیں غوث ہیں اور خواجہ مُعینُ الدین ہے
اے حَسَن کیوں نہ ہو محفوظ عقیدہ تیرا