گود میں عالمِ شباب حالِ شباب کچھ نہ پوچھ
گلبنِ باغِ نور کی اور ہی کچھ اٹھان ہے
تجھ سا سیاہ کار کون اُن سا شفیع ہے کہاں
پھر وہ تجھی کو بھول جائیں دل یہ ترا گمان ہے
پیشِ نظر وہ نو بہار سجدے کو دِل ہے بے قرار
روکیے سر کو روکیے ہاں یہی امتحان ہے
شانِ خدا نہ ساتھ دے اُن کے خرام کا وہ باز
سدرہ سے تا زمیں جسے نرم سی اِک اُڑان ہے
بارِ جلال اُٹھا لیا گرچہ کلیجہ شق ہوا
یوں تو یہ ماہِ سبزہ رنگ نظروں میں دھان ہے
خوف نہ رکھ رضا ذرا تو تو ہے عبدِ مصطفیٰ
تیرے لئے امان ہے تیرے لئے امان ہے