گناہوں سے مجھ کو بچا یا الٰہی! بُری عادتیں بھی چھڑا یا الٰہی!
خطاؤں کو میری مٹا یا الٰہی! مجھے نیک خصلت بنا یا الٰہی!
مُطیع اپنا مجھ کو بنا یا الٰہی! سدا سُنّتوں پر چلا یا الٰہی!
تجھے واسطہ سارے نبیوں کا مولیٰ! مری بخش دے ہر خطا یا الٰہی!
غمِ مصطفےٰ دے غمِ مصطفےٰ دے! ہو دَردِ مدینہ عطا یا الٰہی!
میں عشقِ نبی میں رہوں گم ہمیشہ! تُو دیوانہ ایسا بنا یا الٰہی!
مدینے کی مستی رہے مجھ پہ چھائی! سدا یا الٰہی سدا یا الٰہی!
دکھا ہر برس تُو حرم کی بہاریں! تو مکہ مدینہ دکھا یا الٰہی!
شرف ہر برس حج کا پاؤں خدایا! چلے طیبہ پھر قافلہ یا الٰہی!
جو روتے ہیں ہجرِ مدینہ میں اُن کو! مدینے کی گلیاں دکھا یا الٰہی!
زباں اور آنکھوں کا قُفلِ مدینہ! عطا ہو پئے مصطفےٰ یا الٰہی!
تُو مرشد کے صدقے دیوانہ بنا دے! شہنشاہِ بغداد کا یا الٰہی!
مجھے سُنیّت پر تو دے استقامت، پئے شاہِ احمدِ رضا یا الٰہی!
تُو انگریزی فیشن سے ہر دم بچا کر، مجھے سُنّتوں پر چلا یا الٰہی!
مُطیع اپنے مرشد کا مجھ کو بنا دے، میں ہو جاؤں اِن پر فدا یا الٰہی!
مُطیع اپنے ماں باپ کا میں کروں گا، ہر اِک حکم لاؤں بجا یا الٰہی!
سدا پیر و مرشد رہیں مجھ سے راضی، کبھی بھی نہ ہوں یہ خفا یا الٰہی!
بنا دے مجھے ایک در کا بنا دے، میں ہر دم رہوں باوفا یا الٰہی!
تجھے واسطہ سیدہ آمنہ کا، بنا عاشقِ مصطفےٰ یا الٰہی!
مجھے مال و دولت کی آفت نے گھیرا، بچا یا الٰہی بچا یا الٰہی!
نہ دے جاہ و حشمت نہ دولت کی کثرت، گدائے مدینہ بنا یا الٰہی!
مجھے غیبت و چغلی و بدگمانی، کی آفات سے تو بچا یا الٰہی!
یہ دل گورِ تیرہ سے گھبرا رہا ہے، پئے مصطفےٰ جگمگا یا الٰہی!
بقیعِ مبارک میں تدفین میری، ہو، حسنین کا واسطہ یا الٰہی!
تو عطار کو چشمِ نم دے ہر دم، مدینے کے غم میں رُلا یا الٰہی!