ہے دل کو تری جُستجو غوث اعظم
زباں پر تری گفتگو غوث اعظم
ترا ذکر گلشن میں بلبل کے لب پر
گلوں میں ترا رنگ و بو غوث اعظم
نظر میں کوئی خوبرو کیا سمائے
بسا میری آنکھوں میں تو غوث اعظم
ہیں سورج اگر مصطفیٰ چاند ہے تو
ہیں جلوے ترے چار سو غوث اعظم
لگا زخم تیغِ معاصی کا دل پر
تو رحمت سے کر دے رفو غوث اعظم
مدد کر میں ہوں ناتواں اور تنہا
ہیں اعدا بہت جنگجو غوث اعظم