Home/Muhammad Ilyas Attar Qadri/Hajiyon Ke Ban Rahe Hain Qafilay Phir Ya Nabi

Hajiyon Ke Ban Rahe Hain Qafilay Phir Ya Nabi

Written by Muhammad Ilyas Attar Qadri

100%
حاجیوں کے بن رہے ہیں قافلے پھر یا نبی پھر نظر میں پھر گئے حج کے مناظر یا نبی کر رہے ہیں جانے والے حج کی اب تیاریاں رہ نہ جاؤں میں کہیں کر دو کرم پھر یا نبی آہ! پلے زر نہیں رختِ سفر سرور نہیں تم بلا لو تم بلانے پر ہو قادر یا نبی کس قدر تھا خوش مجھے جب پیش آیا تھا سفر مجھ کو اب کی بار بھی بلوائیے پھر یا نبی دل مرا غمگین ہے اور جان بھی ہے مضطرب مُرشدی کا واسطہ بلوائیے پھر یا نبی غم کے بادل چھا رہے ہیں آہ! میرے قلب پر حاضری کی دو اجازت مجھ کو تم پھر یا نبی گُنبدِ خضرا کے جلوے دیکھنے کب آؤں گا کب تک اب تڑپاؤ گے تم مجھ کو آخر یا نبی آپ ہی اسباب آقا پھر مہیا کیجئے پھر دکھا دیجئے مدینے کے مناظر یا نبی کس طرح تسکین دوں گا میں دلِ غمگین کو رہ گیا گر حاضری سے میں جو قاصر یا نبی مجھ پہ کیا گزرے گی آقا! اس برس گر رہ گیا میرا حالِ دل تو ہے سب تم پہ ظاہر یا نبی آہ! طیبہ سے اگر میں دُور رہ کر مر گیا روح بھی رنجور ہوگی کس قدر پھر یا نبی مِثلِ سابق اس برس بھی کیجئے نظرِ کرم میں گزشتہ سال آیا تھا بالآخر یا نبی جو مدینے کے لئے رہتے ہیں آقا بے قرار وہ بھی ہو جائیں ترے روضے پہ حاضر یا نبی چاک سینہ چاک دل سوزِ جگر اور چشمِ تر دیجئے مجھ کو طفیلِ عبدِ قادر یا نبی یقیں قرآن عظمت پر تمہاری ہے گواہ شاہد و قاسم ہو تم طیب ہو طاہر یا نبی تم کو عِلمِ غیب مولا نے عطا فرمایا کر دیا ہر جا پہ حاضر اور ناظر یانبی! استقامت دین پر مجھ کو عطا فرمائیے یا رسول اللہ برائے آلِ یاسر! یانبی! آپ سب نبیوں میں افضل اور میں بدکار آہ! عاصیوں میں ہوں یگانہ اور نادر یانبی! عاصی و بدکار کے اپنے خدائے پاک سے بخشوا دو سب صغائر اور کبائر یانبی! بال بھی بیکا نہ میرا تو کوئی کر پائے گا کیوں کہ میرے تم ہو حامی اور ناصر یانبی! تشنگانِ دید کو ہو دید کا شربت عطا از طفیلِ غوثِ اعظم عبدِ قادر یانبی! آہ! میرا کیا بنے گا گر نہ حج پر جاسکا ہو کرم عطار پر ہوجائے حاضر یانبی!