حج کا شرف ہو پھر عطا یا ربِّ مصطفٰے
میٹھی مدینہ پھر دکھا یا ربِّ مصطفٰے
مل جائے اب رہائی فراقِ مدینہ سے
ہو یہ کرم، ہو یہ عطا یا ربِّ مصطفٰے
دیدے طوافِ خانہِ کعبہ کا پھر شرف
فرما یہ پورا مِرا دعا یا ربِّ مصطفٰے
رُخ سوئے کعبہ ہاتھ میں زم زم کا جام ہو
پی کر میں پھر کروں دُعا یا ربِّ مصطفٰے
پھر قافلہ الٰہی بنے ”چل مدینہ“ کا
احمد رضا کا واسطہ یا ربِّ مصطفٰے
سب اہلِ خانہ ساتھ میں ہوں کاش! چل پڑے
سوئے مدینہ قافلہ یا ربِّ مصطفٰے
ہوں ساتھ میں نواسیاں اور اُن کے والدین
چل دے مدینے قافلہ یا ربِّ مصطفٰے
ہوں ساتھ پوتے پوتیاں اور اُن کے والدین
چل دے مدینے قافلہ یا ربِّ مصطفٰے
دیوانے مصطفٰے کے مرے ساتھ ساتھ ہوں
چل دے مدینے قافلہ یا ربِّ مصطفٰے
روتی رہے جو ہر گھڑی عشقِ رسول میں
وہ آنکھ دیدے یا خدا یا ربِّ مصطفٰے
اے کاش! مجھ کو خواب میں ہو جائے ایک بار
دیدارِ شاہِ انبیاء یا ربِّ مصطفٰے
ہوں ختم میرے مُلک سے تخریب کاریاں
اَمن و امان ہو عطا یا ربِّ مصطفٰے
دنیا کے جھگڑے ختم ہوں اور مشکلیں ٹلیں
صدقہ حسن حسین کا یا ربِّ مصطفٰے
گو جاں کو خطرہ ہے مری امداد پر ہے تُو
پھر دشمنوں کا خوف کیا یا ربِّ مصطفٰے
اِس طرح پھیلے نیکی کی دعوت کہ نیک ہو
ہر ایک چھوٹا اور بڑا یا ربِّ مصطفٰے
بے پردگی کا خاتمہ ہو عورتوں کو دے
زیور حیا و شرم کا یا ربِّ مصطفٰے
ہر ماہ مدنی قافلے میں سب کریں سفر
اللہ! جذبہ کر عطا یا ربِّ مصطفٰے
احکامِ شرع پر مجھے دے دے عمل کا شوق
پیکر خلوص کا بنا یا ربِّ مصطفٰے
”قفلِ مدینہ“ لب پہ ہو اور یہ شرف ملے
ہر دم کروں تری ثنا یا ربِّ مصطفٰے
ہو جائیں مولا مسجدیں آباد سب کی سب
سب کو نمازی دے بنا یا ربِّ مصطفٰے
غیبت سے اور تہمت و چغلی سے دُور رکھ
خوگر تو سچ کا دے بنا یا ربِّ مصطفٰے
عُجب و تکبر اور بچا حُبِ جاہ سے
آئے نہ پاس تک ریا یا ربِّ مصطفٰے
اَمراضِ عصیاں نے مجھے کرنیم جاں دیا
مرشد کا صدقہ دے شفا یا ربِّ مصطفٰے
جوں ہی گناہ کرنے لگوں، تیرے خوف سے
فوراً اُٹھوں میں تھرتھرا یا ربِّ مصطفٰے
تیری خشیت اور تیرے ڈر سے، خوف سے
ہر دم ہو دِل یہ کانپتا یا ربِّ مصطفٰے
دے نَزع و قبر و حشر میں ہر جا امان، اور
دوزخ کی آگ سے بچایا یا ربِّ مصطفٰے
آنکھوں میں جلوہِ شاہ کا اور لب پہ نعت ہو
جب روح تن سے ہو جدا یا ربِّ مصطفٰے
اے کاش! زیرِ گنبدِ خضرا پئے ضیا
ایمان پر خاتمہ ہو یاربِ مصطفیٰ
مجھ کو بقیعِ پاک میں مدفن نصیب ہو
غوثِ الورٰی کا واسطہ یاربِ مصطفیٰ
جس دم وہ آئیں قبر میں، میری زبان پر
بس مرحبا کی ہو صدا یاربِ مصطفیٰ
حشر میں پُل صراط پہ میرے قدم کہیں
جائیں پھسل نہ یا خدا یا ربِ مصطفیٰ
فردوس میں پڑوس دے اپنے حبیب کا
مولٰی علی کا واسطہ یاربِ مصطفیٰ
تو بے حساب بخش دے عطارِ زار کو
تجھ کو نبی کا واسطہ یاربِ مصطفیٰ