ہر خطا تو درگزر کر بیکس و مجبور کی ہوا ہی مغفرت ہر بیکس و مجبور کی
یا الہی! کر دے پوری از پئے غوث و رضا آرزوئے دید سرور بیکس و مجبور کی
زندگی اور موت کی ہے یا الہی کشمکش جاں چلے تیری رضا پر بیکس و مجبور کی
اعلیٰ علیین میں یارب! اسے دینا جگہ روح چلے جب نکل کر بیکس و مجبور کی
ہو بقیع پاک کی اللہ! پوری آرزو از پئے حسنین و حیدر بیکس و مجبور کی
واسطہ نورِ محمد کا تجھے پیارے خدا گور تیرہ کر منور بیکس و مجبور کی
آپ کے بیٹھے مدینے میں پئے غوث و رضا حاضری ہو یانی! ہر بیکس و مجبور کی
آمنہ کے لال! صدقہ فاطمہ کے لال کا دُور شامِ رنج و غم کر بیکس و مجبور کی
نفس و شیطاں غالب آئے لو خبر اب جلد تر یارسول اللہ! آکر بیکس و مجبور کی
کہتے رہتے ہیں دعا کے واسطے بندے ترے کر دے پوری آرزو ہر بیکس و مجبور کی
جس کسی نے بھی دعا کے واسطے یارب! کہا اے حبیبِ ربِ داور! بیکس و مجبور کی
بہرِ خاکِ کربلا ہوں دُور آفات و بلا اے حبیبِ ربِ داور بیکس و مجبور کی
آپ خود تشریف لائے بیکس کی طرف آہ! جب نکلی تڑپ کر بیکس و مجبور کی
اے مدینے کے مسافر! تُو وہاں غم کی گھٹا اُن سے کہنا خوب رو کر بیکس و مجبور کی
ہوک اُٹھی، روح تڑپی، جب مدینہ پھٹ گیا جان تھی غمگین و مُضطر بیکس و مجبور کی
آپ کے قدموں میں گر کر موت کی یا مصطفیٰ آرزو کب آئے گی بر، بیکس و مجبور کی
نامہِ عطار میں حُسنِ عمل کوئی نہیں لاج رکھنا روزِ محشر بیکس و مجبور کی