ہر شے میں ہے نورِ رخِ تاباںِ محمد
ہر پھول میں خوشبوئے گلستاںِ محمد
اللہ نے محبوب کو بے مثل بنایا
ممکن ہی نہیں ہو کوئی ہم شأنِ محمد
مخلوق کو معلوم ہو کیا اُن کی حقیقت
رب عزوجل جانتا ہے شأنِ محمد
آسکتا ہے کب ہم سے گنواروں کو ادب وہ
جیسا کہ ادب کرتے تھے یارانِ محمد
سینہ ہے وہی جس میں نبی کی ہو محبت
ہے آنکھ وہی جو ہے جویانِ محمد
وہ دل ہی نہیں جو نہ جھکے سوئے مدینہ
وہ سر ہی نہیں جو نہ ہو قربانِ محمد
اعدا کی شقاوت کہ ہوئے آپ کے منکر
اور سنگ و شجر تابعِ فرمانِ محمد