ہوا ہے جلوہ نما وہ نگار آنکھوں میں
کہ آج پھول رہی ہے بہار آنکھوں میں
نقاب اٹھ گیا کیا کیا روئے ماہِ طیبہ سے
کہ شش جہت سے ہے نور آشکار آنکھوں میں
نظر میں ایسا سمایا ہے گلشنِ طیبہ
کھلا ہوا ہے عجب لالہ زار آنکھوں میں
عروج پر ہو ہمارا ستارہِ قسمت
بنے تمہارا اگر رہ گزر آنکھوں میں
تمہارے عارضِ پر نور دیکھنے کے لیے
ہے جانِ زار بہت بے قرار آنکھوں میں