ہوا جاتا ہے رخصت ماہِ رمضان یا رسول اللہ
رہا اب چند گھڑیوں کا یہ مہماں یا رسول اللہ
خوشی کی لہر دوڑی ہر طرف رمضان جب آیا
ہیں اب رنجیدہ رنجیدہ مسلماں یا رسول اللہ
مسرت ہی مسرت اور خوشی ہی تھی خوشی جس دم
نظر آیا ہلالِ ماہِ رمضان یا رسول اللہ
شہاا! اب غم کے مارے خون کے آنسو بہاتے ہیں
چلا تڑپا کے ہائے ماہِ رمضان یا رسول اللہ
چلا اب جلد یہ رمضاں ستائیس آگئی تاریخ
فقط دو دن کا اب رمضاں ہے مہماں یا رسول اللہ
فضائیں نور برسائیں ہوائیں مسکراتی تھیں
سماں اب ہو گیا ہر سمت ویراں یا رسول اللہ
ریاضت کچھ نہ کی ہم نے عبادت کچھ نہ کی ہم نے
رہے بس ہر گھڑی مشغولِ عصیاں یا رسول اللہ
میں ہائے جی چراتا ہی رہا رب کی عبادت سے
گزارا غفلتوں میں سارا رمضاں یا رسول اللہ
میں سوتا رہ گیا غفلت کی چادر تان کر افسوس
خدا را میری بخشش کا ہو ساماں یا رسول اللہ
جدائی کی گھڑی جاں سوز ہے عشاقِ رمضاں پر
چلا ان کو لٹا کر ماہِ رمضاں یا رسول اللہ
تڑپتے ہیں بلکتے ہیں قرار آتا نہیں ان کو
بہت بے چین ہیں عشاقِ رمضاں یا رسول اللہ
گناہوں کی سیاہی چھا رہی ہے رُخ پہ محشر میں
مرا چہرہ پہ رمضاں ہو تاباں یا رسول اللہ
یہ رمضاں کی رخصت جاں عاشق پر قیامت ہے
گدا تیرے ہیں حیران و پریشاں یا رسول اللہ
خدا کے نیک بندے نیکیوں میں لگ گئے لیکن
گنہ کرتا رہا عطار ناداں یا رسول اللہ