اذن مل جائے گر مدینے کا
کام بن جائے گا کمینے کا
جا کے اُن کو دکھاؤں گا میں تو
زخمِ دل اور داغ سینے کا
قلبِ عاشق اٹھا دھڑک اک دم
ذکر جب چھڑ گیا مدینے کا
آنکھ سے اشک ہوگئے جاری
جب چلا قافلہ مدینے کا
اُس کی قسمت پہ رشک آتا ہے
جو مسافر ہوا مدینے کا
تجھ پہ رحمت ہو زائرِ طیبہ!
جا، نگہباں خدا سفینے کا
ہم کو بھی بلائیں گے اک دن
اذن مل جائے گا مدینے کا
ہو غمِ مصطفےٰ عطا یارب!
درد بڑھتا رہے مدینے کا
نزع میں، قبر میں، قیامت میں
تم ہی رکھنا بھرم کمینے کا
دُور رنج و الم ہوں دُنیا کے
ہم کو مل جائے غم مدینے کا
لُطف سے ہے ترے بھرم ورنہ
کام کوئی نہیں قرینے کا
ایک مدت سے دل میں ارماں ہے
یانی! جامِ دید پینے کا
موت گر آئے تیرے قدموں میں
لُطف آجائے پھر تو جینے کا
اپنے عطار پر کرم کر دو
سگ بنا لو اسے مدینے کا