جانکنی کا وقت ہے یا مصطفیٰ جاں بلب اب طالبِ دیدار ہے
آپ کے قدموں میں گر کر موت کی آرزو یا سیدِ ابرار ہے
مغفرت فرما طفیلِ مُرشدی یہ دعا تجھ سے مرے غفار ہے
بلبلو! تم کو مبارک پھول ہو بس گیا طیبہ کا دل میں خار ہے
کیا کروں میں دیکھ کر رنگِ چمن دشتِ طیبہ سے مجھے تو پیار ہے
سبز گنبد کی ضیائیں مرحبا مرحبا پُرنور ہر مینار ہے
جگمگاتا ہے مدینہ رات دن سبز گنبد منبعِ انوار ہے
جس کی تربت ہے بقیعِ پاک میں اُس کو حاصل قُربتِ سرکار ہے
مصطفیٰ اِس روز آئے اِس لئے عیدِ میلادُ النبی سے پیار ہے
مرحبا! آقا کی آمد مرحبا! ہم کو اس نعرے سے بے حد پیار ہے
جو کوئی گستاخ ہے سرکار کا وہ ہمیشہ کے لئے فی النار ہے
دشمنوں کا تنگ گھیرا ہو گیا رحم کی درخواست اب سرکار ہے
آہ! دشمن کا پیاسا ہوا یا نبی! تیری مدد درکار ہے
حاسدوں کو دے ہدایت یا خدا اُس کا صدقہ جو مرا غمخوار ہے
غوث کے دامن میں عطار آ گیا دو جہاں میں اس کا بیڑا پار ہے