Home/Muhammad Ilyas Attar Qadri/Jo Bhi Sarkar Ka Ashiq-e-Zar Hai Us Ki Thokar Pe Daulat Ka Anbar Hai

Jo Bhi Sarkar Ka Ashiq-e-Zar Hai Us Ki Thokar Pe Daulat Ka Anbar Hai

Written by Muhammad Ilyas Attar Qadri

100%
جو بھی سرکار کا عاشق زار ہے اُس کی ٹھوکر پہ دولت کا انبار ہے سلطنت سے اُسے کیا سَروکار ہے واسطے اِقتدار اُس کے بیکار ہے جو کہ دیوانہ شاہِ ابرار ہے جس کا دل اُن کی اُلفت سے سرشار ہے اُن کی سُنّت کا جو آئینہ دار ہے بس وہی تو جہاں میں سمجھدار ہے آتشِ شوق میں کاش! جلتا رہوں اور خیالِ مدینہ میں کھویا رہوں بس مدینہ مدینہ ہی کرتا رہوں یہ دُعا میری اے ربِ غفّار ہے دُور دنیا کے ہوجائیں رنج و اَلم مجھ کو مل جائے بیٹھے مدینے کا غم ہو کرم ہو یا خدا ہو کرم واسطہ اُس کا جو شاہِ ابرار ہے آہ! عصیاں کے طوفاں میں جاں چمن پھنس گیا ہے سفینہ اے شاہِ زمن بس تمہیں ایک اُمید کی ہو کرن تم جو چاہو تو بیڑا مرا پار ہے رو رہا ہے یہ جو ہچکیاں باندھ کر یاد آیا ہے اس کو نبی کا نگر کیا کرو گے طبیبو! اسے دیکھ کر چھوڑ دو یہ مدینے کا بیمار ہے بیٹھے بیٹھے مدینے کی مہکی فضا ہر مسلماں کو یا الہی! دکھا اُس شہِ کربلا کا تجھے واسطہ جو جوانانِ جنت کا سردار ہے آہ! رنج و اَلم کی نہیں کوئی حد کام کرتی نہیں اب تو عقل و خرد المدد اے میرے رہنما المدد پاؤں زخمی ہیں اور راہ پُر خار ہے مجھ کو سوزِ بلال اور سوزِ رضا دے دو سوزِ اویس اور سوزِ ضیا واسطہ تُجھ کو آقا اُسی غوث کا اولیا کا جو سلطان و سردار ہے بھر کے جاتے ہیں مانگتے جہاں جھولیاں بھول جاتے ہیں غم غم کے مارے جہاں جس جگہ دشمنوں نے بھی پائی اماں میرے بیٹھے نبی کا وہ دربار ہے وہ حبیبِ خدا سرورِ انس و جاں جس کے زیرِ تصرف ہیں دونوں جہاں اُس پہ قربان دل اُس پہ قربان جاں جو خدا کی خدائی کا مختار ہے اے مقدر کی روٹھی ہواؤ سنو! حالِ دل پر نہ یوں مسکراؤ سنو! آندھیو! گردشو! تم بھی آؤ سنو! مصطفیٰ میرا حامی و غمخوار ہے ٹوٹے گو سر پہ کوہِ بلا صبر کر اے مبلغ نہ تُو ڈگمگا صبر کر لب پہ حرفِ شکایت نہ لا صبر کر ہاں یہی سنتِ شاہِ ابرار ہے یا حبیبِ خدا مجھ پہ چشمِ عطا کر دو تم از پئے غوث و احمد رضا لے کر اُمیدِ عفو و کرم سرورِ در پہ حاضر تمہارا گنہگار ہے خواہ دولت نہ دے کوئی ثروت نہ دے چاہے عزت نہ دے کوئی شہرت نہ دے تختِ شاہی نہ دے اور حکومت نہ دے تجھ سے عطار تیرا طلب گار ہے