جو ہو سر کو رسائی اُن کے در تک
تو پہنچے تاجِ عزت اپنے سر تک
وہ جب تشریف لائے گھر سے در تک
بھکاری کا بھرا ہے دَر سے گھر تک
دُہائی ناخدا ئے بے کسوں کی
کہ سیلابِ اَلم پہنچا کمر تک
الہیٰ دل کو دے وہ سوزِ اُلفت
پھنکے سینہ جلن پہنچے جگر تک
نہ ہو جب تک تمہارا نام شامل
دُعائیں جا نہیں سکتیں اَثر تک
گزر کی راہ نکلی رہ گزر میں
ابھی پہنچے نہ تھے ہم ان کے در تک
خدایوں اُن کی اُلفت میں گما دے
نہ پاؤں پھر کبھی اپنی خبر تک
بجائے چشمِ خود اُٹھ تا نہ ہو آؤ
جمالِ یار سے تیری نظر تک
تری نعمت کے بھوکے اہلِ دولت
تری رحمت کا پیاسا اَبر تک
نہ ہوگا دو قدم کا فاصلہ بھی
الہ آباد سے احمد نگر تک
تمہارے حُسن کے باڑے کے صدقے
نمک خوارِ ملاحت ہے قمر تک
شبِ معراج تھے جلوے پہ جلوے
شبستانِ دُنیٰ سے ان کے گھر تک
بلائے جان ہے اب ویرانیِ دل
چلے آؤ کبھی اس اجڑے گھر تک
نہ کھول آنکھیں نگاہِ شوقِ ناقص
بہت پردے ہیں حُسنِ جلوہ گر تک
جہنم میں دھکیلیں نجدیوں کو
حسن جھوٹوں کو یوں پہنچائیں گھر تک
دل کشی حُسنِ جاناں کا ہو کیا عالم بیاں
دل فدائے آئنہ آئنہ قربانِ جمال
پیشِ یوسف ہاتھ کائے ہیں زنانِ مصر نے
تیری خاطر سر کٹا بیٹھے فدایانِ جمال
تیرے ذرہ پر شبِ غم کی جفائیں تا بکے
نور کا تڑکا دکھا اے مہرِ تاباں جمال
اتنی مدت تک ہو دیدِ مُصحفِ عارض نصیب
حفظ کرلوں ناظرہ پڑھ پڑھ کے قرآنِ جمال
یا خدا دل کی گلی سے کون گزرا ہے آج
ذرہ ذرہ سے ہے طالع مہرِ تاباں جمال
اُن کے در پر اس قدر بٹتا ہے باڑہ نور کا
جھولیاں بھر بھر کے لاتے ہیں گدایانِ جمال
نور کی بارش حُسن پر ہو تیرے دیدار سے
دل سے دھل جائے الہیٰ داغِ حرمانِ جمال