Home/Muhammad Ilyas Attar Qadri/Jo seene ko Madina un ki yaadon se banate hain

Jo seene ko Madina un ki yaadon se banate hain

Written by Muhammad Ilyas Attar Qadri

100%
جو سینے کو مدینہ اُن کی یادوں سے بناتے ہیں اُ ہی تو زندگانی کا حقیقی لُطف اُٹھاتے ہیں جو اپنی زندگی میں سُنّتیں اُن کی سجاتے ہیں انہیں پیارا محمد مصطفٰے اپنا بناتے ہیں غمِ سَرور میں رونے کا قرینہ یا الٰہی دے مجھے افسوس بے جا غم زمانے کے رُلاتے ہیں جو دیدارِ محمد کی تڑپ رکھتے ہیں سینے میں نبیِ پاک اُن کو خواب میں جلوہ دکھاتے ہیں زمانہ جس کو ٹھکرادے، ہر اک دُھتکار دے ایسے نکمّے سے نکمّے کو بھی سینے سے لگاتے ہیں فدا میں کیوں نہ ہوجاؤں، نبی کی شانِ رَحمت پر وہ بڑھ کر تھام لیتے ہیں قدم جب لڑکھڑاتے ہیں جب اُن کے سامنے لالِ آمنہ مسکراتا ہے غم و آلام کے مارے غم بھول جاتے ہیں بِاِذنِ اللہ ساری نعمتوں کے ہیں وہی قاسم ہمیں آقا کھلاتے ہیں ہمیں آقا پلاتے ہیں مدینہ اے سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب و سینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا فرمانِ عالی شان ہے: "إِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَ اللهُ يُعْطِي“ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ عطا کرتا ہے اور میں تقسیم کرتا ہوں (صحیح بخاری ج ۱ ص ۴۳ حدیث ۷۱) اس حدیثِ پاک کے تحت حضرتِ سیّدنا مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان فرماتے ہیں کہ دین و دنیا کی ساری نعمتیں علم، ایمان، مال، اولاد وغیرہ دیتا اللہ ہے بانٹے حضور ہیں جسے جو ملا حضور کے ہاتھوں ملا کیونکہ یہاں نہ اللہ کی دین میں کوئی قید ہے نہ حضور کی تقسیم میں۔ (مراۃ المناجیح ج ۱ ص ۱۸۷) اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: رب ہے مُعطی یہ ہیں قاسم رِزق اُس کا کھاتے یہ ہیں (حدائقِ بخشش) مدینے کی تمنا میں جئے جاتے ہیں دیوانے کہ جانے کب ہمیں آقا مدینے میں بلاتے ہیں حسد کی آگ میں جل بھن کے شیطاں خاک اڑاتا ہے ترا جشنِ ولادت دھوم سے جب ہم مناتے ہیں خدا و مصطفٰے ناراض ہوتے ہیں سنو ان سے جو داڑھی کو مُنڈاتے ہیں یا مُٹھی سے گھٹاتے ہیں غلامو، مت ڈرو محشر کی گرمی سے چلے آؤ وہ کوثر کے پیالے بھر کے پیاسوں کو پلاتے ہیں نظارے ان کے آگے ہیچ ہوتے ہیں گلستاں کے جو صحرائے مدینہ کے مناظر دیکھ آتے ہیں نہیں ہیں نیکیاں پلّے مگر گھبرا نہ اے عطار خطاکاروں کو بھی وہ اپنے سینے سے لگاتے ہیں