جو صدقِ دل سے تمھارا غلام ہو جائے
تو اُس پہ آتشِ دوزخ حرام ہو جائے
نزولِ رحمتِ حق بھی اسی طرف کو ہو
جدھر وہ سرورِ عالی مقام ہو جائے
الٰہی جس کے سبب سے یہ عرش و فرش بنے
اُسی کا میرے بھی دِل میں قیام ہو جائے
خدا کرے کہ مدینے کا ہو سفر ہر سال
ہماری عُمر اِسی میں تمام ہو جائے
تمہارے روضۂ اقدس پہ میرا دَم نکلے
فراق و وصل کا قصہ تمام ہو جائے