Home/Imam Ahmad Raza Khan Qadri/Ka'aba ka naam tak na liya Taiba hi kaha

Ka'aba ka naam tak na liya Taiba hi kaha

Written by Imam Ahmad Raza Khan Qadri

100%
کعبہ کا نام تک نہ لیا طیبہ ہی کہا پوچھا تھا ہم سے جس نے کہ نَھضتُ کدھر کی ہے کعبہ بھی ہے اُنہیں کی تجلّی کا ایک ظل روشن انہی کے عکس سے پتلیٔ حجر کی ہے ہوتے کہاں خلیل و بنا کعبہ و منیٰ لُولاک والے صاحبی سب تیرے گھر کی ہے مولٰی علی نے واری تری نیند پر نماز اور وہ بھی عصر سے جو اَعلٰی خطر کی ہے صدیق بلکہ غار میں اُس پے دے چکے اور حفظ جاں تو جان فروشِ غَرر کی ہے ہاں! تو نے اُن کو جاں انہیں پھیر دی نماز پَر وہ تو کر چکے تھے جو کرنی بشر کی ہے ثابت ہوا کہ جملہ فرائض فروغ ہیں اصل الاصول بندگی اس تاج ور کی ہے شر خیر شور سور دور نار نور بشری کہ بارگاہ یہ خیر البشر کی ہے مجرم بلائے آئے ہیں جَاءُوکَ ہے گواہ پھر رد ہو کب یہ شان کریموں کے در کی ہے بد ہیں مگر انہیں کے ہیں باغی نہیں ہیں ہم نجدی نہ آئے اس کو یہ منزل خطر کی ہے تف نجدی نہ کفر نہ اسلام سب پہ حرف کافر ادھر کی ہے نہ ادھر کی ادھر کی ہے حاکم حکیم داد و دوا دیں یہ کچھ نہ دیں مردود یہ مراد کس آیت خبر کی ہے شکلِ بشر میں نورِ الہی اگر نہ ہو کیا قدر اُس خمیرِ مائے و مَدَر کی ہے نُورِ الہ کیا ہے محبت حبیب کی جس دل میں یہ نہ ہو وہ جگہ خوک و خر کی ہے ذکر خدا جو اُن سے جدا چاہو نجدیو! واللہ ذکرِ حق نہیں کنجی سقر کی ہے بے اُن کے واسطہ کے خدا کچھ عطا کرے حاشا غلط غلط یہ ہوس بے بصر کی ہے مقصود یہ ہیں آدم و نوح و خلیل سے تخمِ کرم میں ساری کرامت ثمر کی ہے اُن کی نبوت اُن کی اُبوت ہے سب کو عام اُم البشر انہیں کے پسر کی ہے ظاہر میں میرے پھول حقیقت میں میرے نخل اس گل کی یاد میں یہ صدا بوالبشر کی ہے پہلے ہو ان کی یاد کہ پائے جلا نماز یہ کہتی ہے اذان جو پچھلے پہر کی ہے