کلام بلاک 1

Written by Allama Hasan Raza Khan

100%
اَدنیٰ گویے سرِ طور سے پوچھے کوئی کس طرح غش میں گراتا ہے تجلّی تیرا پار اُترتا ہے کوئی غرق کوئی ہوتا ہے کہیں پایاب کہیں جوش میں دریا تیرا باغ میں پھول ہوا شمع بنا محفل میں جوشِ نیرنگ درِ آغوش ہے جلوہ تیرا نئے انداز کی خلوت ہے یہ اے پردہ نشیں آنکھیں مشتاق رہیں دل میں ہو جلوہ تیرا شہ نشیں ٹوٹے ہوئے دل کو بنایا اُس نے آہ اے دیدۂ مشتاق یہ لکھا تیرا سات پردوں میں نظر اور نظر میں عالم کچھ سمجھ میں نہیں آتا یہ معمّا تیرا طور کا ڈھیر ہوا غش میں پڑے ہیں موسیٰ کیوں نہ ہو یار کہ جلوہ ہے یہ جلوہ تیرا چارِ اضداد کی کس طرح گرہ باندھی ہے ناخنِ عقل سے کھلتا نہیں عُقدہ تیرا