خدا کے فضل سے ہم پر ہے سایہ غوثِ اعظم کا
ہمیں دونوں جہاں میں ہے سہارا غوثِ اعظم کا
بلیات و غم و افکار کیوں کر گھیر سکتے ہیں
سروں پر نام لیووں کے ہے پنجہ غوثِ اعظم کا
مُرِیْدِیْ لَا تَخَفْ کہہ کر تسلی دی غلاموں کو
قیامت تک رہے بے خوف بندہ غوثِ اعظم کا
جو اپنے کو کہے میرا مریدوں میں وہ داخل ہے
یہ فرمایا ہوا ہے میرے آقا غوثِ اعظم کا
سجل ان کو دیا وہ رب نے جس میں صاف لکھا ہے
کہ جائے خلد میں ہر نام لیوا غوثِ اعظم کا
ہماری لاج کس کے ہاتھ ہے بغداد والے کے
مصیبت ٹال دینا کام کس کا غوثِ اعظم کا
جہاز تاجرّاں گرداب سے فوراً نکل آیا
وظیفہ جب انہوں نے پڑھ لیا یا غوثِ اعظم کا