خدا نے جس کے سر پر تاج رکھا اپنی رحمت کا
درود اُس پہ ہو وہ حاکم بنا مُلکِ رسالت کا
وہ ماحیِ کفر و ظلمت شرک و بدعات و ضلالت کا
وہ حافظ اپنی ملت کا وہ ناصر اپنی اُمت کا
مداوا کیسے فرمائے کوئی بیمارِ فرقت کا
کہ دیدارِ نبی مرہم ہے اس دل کی جراحت کا
اثر کیا ہو سکے گا مہرِ محشر کی حرارت کا
ہمارے سر پہ ہوگا شامیانہ اُن کی رحمت کا
کبھی دیدارِ حق ہوگا کبھی نظارہ حضرت کا
ہمیں ہنگامہِ عیدین ہوگا دن قیامت کا
نہ کیوں ہو آشکارا تیرا جلوہ ذرہ ذرہ میں
شہنشاہِ مدینہ تو ہے پرتو نورِ وحدت کا
دمِ آخر سرِبالیں خرامِ ناز فرماؤ
خدارا حال دیکھو مبتلائے دردِ فرقت کا