کس منہ سے کہوں رشکِ عَنَادِل ہوں میں
شاعر ہوں فصیحِ بے مماثل ہوں میں
حقا کوئی صنعت نہیں آتی مجھ کو
ہاں یہ ہے کہ نقصان میں کامل ہوں میں
دیگر
توشہ میں غم و اَشک کا ساماں بس ہے
افغانِ دلِ زارِ حدی خواں بس ہے
رہبر کی رہِ نعت میں گر حاجت ہو
نقشِ قدمِ حضرتِ حسّاں بس ہے
دیگر
ہر جا ہے بلندی فلک کا مذکور
شاید ابھی دیکھے نہیں طیبہ کے قصور
انسان کو انصاف کا بھی پاس رہے
گو دور کے ڈھول ہیں سہانے مشہور