کیا سبز سبز گُنبد کا خوب ہے نظارہ
ہے کس قدر سہانا کیسا ہے پیارا پیارا
انوارِ یاں چھما چھم برسائیں آٹھوں یاہم
پُرنور سبز گُنبد پُرنور ہر مینارہ
پیشِ نظر ہو ہر دم بس سبز گُنبد
دل میں بسا رہے بس جلوہ سدا تمہارا
سائے میں سبز گُنبد کے توڑنے بھی دو دم
چارہ گرو! خدارا کوئی کرو نہ چارہ
غوثِ الورٰی کا صدقہ ایسا دے اپنا غم بس
روتے ہوئے ہی گزرے سرکار! وقت سارا
سینہ بنے مدینہ دل میں بسے مدینہ
یادوں میں اپنی رکھے گُم یا نبی! خدارا
مت چھوڑئیے مجھے اب دنیا کی ٹھوکروں پر
بَس آپ ہی کے ٹکڑوں پر ہو میرا گزارہ
سرکار! حُبِ دُنیا دل سے مرے نکالو
دیوانہ اَب بنالو! اپنا مجھے خُدارا
تڑپا کروں سُدا میں اے کاش! تیرے غم میں
ہائے! مجھے زمانے کے رنج وغم نے مارا
گر یہ گُناہی ہوں یارب! شوقِ مدینہ میں جو
طیبہ کا کاش! وہ بھی کرلیں گُمہی نظارہ
رنج و اَلَم کے بادل سارے ہی چھٹ گئے ہیں
جب بھی تڑپ کے ہم نے سرکار کو پکارا
ٹھکرا دے جس کو دُنیا اُس کو گلے لگانا
یہ کام ہے تمہارا یامُصطفیٰ! تمہارا