Home/Mustafa Raza Khan Qadri/Maah-e-Taaban Tu Hua Mehar-e-Ajam Maah-e-Arab

Maah-e-Taaban Tu Hua Mehar-e-Ajam Maah-e-Arab

Written by Mustafa Raza Khan Qadri

100%
ماہِ تاباں تو ہوا مہرِ عجم ماہِ عرب ہیں ستارے انبیا مہرِ عجم ماہِ عرب ہیں صفاتِ حق کے نوری آئینے سارے نبی ذاتِ حق کا آئینہ مہرِ عجم ماہِ عرب کب ستارا کوئی چمکا سامنے خورشید کے ہو نبی کیسے نیا مہرِ عجم ماہِ عرب آپ ہی کے نور سے تابندہ ہیں شمس و قمر دل چمک جائے مرا مہرِ عجم ماہِ عرب قبر کا ہر ذرّہ اک خورشیدِ تاباں ہو ابھی رُخ سے پردہ دو ہٹا مہرِ عجم ماہِ عرب کوچۂ پُرنور کا ہر ذرّہ رشکِ مہر ہے واہ کیا کہنا ترا مہرِ عجم ماہِ عرب رُوسیہ ہوں منہ اُجالا کر مرا جانِ قمر صبح کر یا چاندنا مہرِ عجم ماہِ عرب نئیّرِ چرخِ رسالت جس گھڑی طالع ہوا اوج پر تھا غلغلہ مہرِ عجم ماہِ عرب آپ نے جب مشرقِ انوار سے فرمایا طلوع دامنِ شب پھٹ گیا مہرِ عجم ماہِ عرب ظلمتِ شب مٹ گئی جب آپ جلوہ گر ہوئے رات تھی پُر دن ہوا مہرِ عجم ماہِ عرب تم نے مغرب سے نکل کر اک قیامت کی بپا کافروں پر سَرورا مہرِ عجم ماہِ عرب آفتابِ ہاشمی تو غروب سے طالع ہو پھر کر سویا نور کا مہرِ عجم ماہِ عرب حق کے پیارے نور کی آنکھوں کے تارے ہو تمہیں نورِ چشمِ انبیا مہرِ عجم ماہِ عرب زُلفِ والا کی صفت وَاللَّیْل ہے قرآن میں اور رُخ کی وَالضُّحیٰ مہرِ عجم ماہِ عرب ظلمتیں سب مٹ گئیں ناری سے نوری ہو گیا جس کے دل میں بس گیا مہرِ عجم ماہِ عرب ظلمتوں پر ظلمتیں ہیں میرے مولیٰ قبر میں اب تو اپنا منہ دکھا مہرِ عجم ماہِ عرب مہر فرما مہر سے عصیاں کی ظلمت محو کر جلوہ فرما ہو ذرا مہرِ عجم ماہِ عرب نور سے معمور ہو جائے مرا سینہ اگر دل پہ رکھ دے اپنا پا مہرِ عجم ماہِ عرب اک اشارے سے قمر کے تم نے دو ٹکڑے کئے مرحبا صد مرحبا مہرِ عجم ماہِ عرب نور کی سرکار ہے تو بھیک بھی نوری ملے قَلبِ نوری جگمگا مہرِ عجم ماہِ عرب ہے تم سے عالم پر ضیا ماہِ عجم مہرِ عرب دے دو میرے دل کو جلا ماہِ عجم مہرِ عرب دونوں جہاں میں آپ ہی کے نور کی ہے روشنی دنیا و عقبیٰ میں شہا ماہِ عجم مہرِ عرب کب ہوتے یہ شام و سحر کب ہوتے یہ شمس و قمر جلوہ نہ ہوتا گر ترا ماہِ عجم مہرِ عرب شام و سحر کے قلب میں شمس و قمر کی آنکھ میں جلوہ ہے جلوہ آپ کا ماہِ عجم مہرِ عرب ہے رو سیاہ مجھ کو کیا آقا مرے اعمال نے کردو اجالا منہ مرا ماہِ عجم مہرِ عرب خورشیدِ تاباں بھیک کو آیا تری سرکار سے ہے نور سے کاسہ بھرا ماہِ عجم مہرِ عرب خورشید کے سر آپ کے در کی گدائی سے رہا سہرا شہا انوار کا ماہِ عجم مہرِ عرب کاسہ لیسی سے ترے دربار کی مہتاب بھی کیسا منور ہو گیا ماہِ عجم مہرِ عرب ہیں یہ زمین و آسماں منگتا اسی سرکار کے ہے ان کی آنکھوں کی ضیاء ماہِ عجم مہرِ عرب یوں بھیک لیتا ہے دو وقتہ آسماں انوار کی صبح و مسا ہے جبہ سا ماہِ عجم مہرِ عرب اس جبہ سائی کے سبب شب کو اسی سرکار نے انعام میں ٹیکا دیا ماہِ عجم مہرِ عرب اور صبح کو سرکار سے اس کو ملا نوری صلہ عمدہ سا جھومر پڑ ضیاء ماہِ عجم مہرِ عرب جب تم نہ تھے کچھ بھی نہ تھا جب تم ہوئے سب کچھ ہوا ہے سب میں جلوہ آپ کا ماہِ عجم مہرِ عرب اک ظلمتِ عصیاں شہا اس پر اندھیرا قبر کا کردے ضیاء بدرالدجیٰ ماہِ عجم مہرِ عرب بَر تُوشَوَد اَز نُورِ رَب بارانِ نوری روز و شب ہو تا ابد یہ سلسلہ ماہِ عجم مہرِ عرب ہو مرشدوں پر نور جاں بارش تمہارے نور کی اور ان سے پائے یہ گدا ماہِ عجم مہرِ عرب بے شک ہے عاصی کے لیے ناری صلہ لیکن شہا نوری کو دو نوری جزا ماہِ عجم مہرِ عرب