محبوبِ ربِ اکبر تشریف لا رہے ہیں
آج انبیا کے سرور تشریف لا رہے ہیں
کیوں ہے فضا مُعطّر! کیوں روشنی ہے گھر گھر
اچھا! حبیبِ داور تشریف لا رہے ہیں
عیدوں کی عید آئی رحمت خدا کی لائی
جود و سخا کے پیکر تشریف لا رہے ہیں
حوریں لگی ہیں گنگنانے نعتوں کے ترانے
خور و ملک کے افسر تشریف لا رہے ہیں
عالم میں ہیں جو یکتا، بے مثل ہیں جو آقا
وہ آمنہ کے ترے گھر تشریف لا رہے ہیں
اے فرشیو مبارک! اے عرشیو مبارک!
دونوں جہاں کے سرور تشریف لا رہے ہیں
اے بے کسو مبارک! اے بے بسو مبارک!
اب غمزدوں کے یاور تشریف لا رہے ہیں
جھومو اے بد نصیبو! ہو جاؤ خوش غریبو!
دیکھو غریب پرور تشریف لا رہے ہیں
کیسا ہے پیارا منظر رنگین و روح پرور
ہر ایک سے حسیں تر تشریف لا رہے ہیں
رحمت برس رہی ہے ہر سُمت روشنی ہے
دیکھو مہِ مُنوّر تشریف لا رہے ہیں
اے بے نواؤ آؤ، آؤ گداؤ آؤ
وہ آمنہ کے گھر پر تشریف لا رہے ہیں
تیری حلیمہ دائی تقدیر مسکرائی
محبوبِ حق برے گھر تشریف لا رہے ہیں
اُمت کے ناز اُٹھانے اُمّت کو بخشوانے
اللہ کے پیمبر تشریف لا رہے ہیں
آج اَڑپئے ولادت جی ہاں ملے گی جنّت
مختارِ خُلد و کوثر تشریف لا رہے ہیں
خود چل کے منزل آئے آکر گلے لگائے
بھٹکے ہوؤں کے رہبر تشریف لا رہے ہیں
وقتِ ولادت آیا ہے شور مرحبا کا
دونوں جہاں کے سرور تشریف لا رہے ہیں
شیطاں کی آئی شامت کیوں دُور ہو نہ ظلمت
ہاں ہاں عرب کے خاور تشریف لا رہے ہیں
کسریٰ کا قصرِ حق ہے شیطاں کا رنگ فِق ہے
دیکھو! رسولِ انور تشریف لا رہے ہیں
تعظیم کے لئے اب اے مومنو اُٹھو سب
آرامِ جانِ مُضطر تشریف لا رہے ہیں
اپنا غلام کہنے اس اُجڑے دل میں رہنے
کب اے غریب پرور تشریف لا رہے ہیں
اُف! ہائے گُھپ اندھیرا چمکانے گورِ تیرہ
کب اے مہِ منوّر تشریف لا رہے ہیں
اے تشنگانِ محشر دیکھو کرم کے پیکر
کوثر کا لے کے ساغر تشریف لا رہے ہیں
بدکارو! رکھو ہمت فرمائیں گے شفاعت
دیکھو شفیعِ محشر تشریف لا رہے ہیں
عطار اب خوشی سے پھولا نہیں سماتا
دنیا میں اس کے سرور تشریف لا رہے ہیں