Home/Allama Hasan Raza Khan/Manqabat Huzoor Achhay Miyan (R.A)

منقبت حضور اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ

Written by Allama Hasan Raza Khan

100%
سُن لو میری التجا اچھے میاں میں تصدّق میں فدا اچھے میاں اب کمی کیا ہے خدا دے بندہ لے میں گدا تم بادشاہ اچھے میاں دین و دنیا میں بہت اچھا رہا جو تمہارا ہوگیا اچھے میاں اس بُرے کو آپ اچھا کیجیے آپ اچھے میں بُرا اچھے میاں ایسے اچھے کا بُرا ہوں میں بُرا جن کو اچھوں نے کہا اچھے میاں میں حوالے کر چکا ہوں آپ کے اپنا سب اچھا بُرا اچھے میاں آپ جانیں مجھ کو اس کی فکر کیا میں بُرا ہوں یا بھلا اچھے میاں مجھ بُرے کے کیسے اچھے ہیں نصیب میں بُرا ہوں آپ کا اچھے میاں اپنے منگتا کو بُلا کر بھیک دی اے میں قربان عطا اچھے میاں مشکلیں آسان فرما دیجیے اے مرے مشکل کشا اچھے میاں میری جھولی بھر دو دستِ فیض سے حاضرِ در ہے گدا اچھے میاں دمِ قدم کی خیر منگتا ہوں ترا دمِ قدم کی خیر لا اچھے میاں جاں بلب ہوں درِ عصیاں سے حضور جاں بلب کو دو شفا اچھے میاں دشمنوں کی ہے چڑھائی الغیاث ہے مدد کا وقت یا اچھے میاں نفسِ سرکش در پئے آزار ہے ہے مدد کا وقت یا اچھے میاں شام ہے نزدیک صحرا ہولناک ہے مدد کا وقت یا اچھے میاں نَزْع کی تکلیف اغوائے عدو ہے مدد کا وقت یا اچھے میاں وہ سوالِ قبر وہ شکلیں مُہیب ہے مدد کا وقت یا اچھے میاں پُرسشِ اعمال اور مجھ سا اَثیم ہے مدد کا وقت یا اچھے میاں بارِ عصیاں سر پہ رعشہ پاؤں میں ہے مدد کا وقت یا اچھے میاں خالی ہاتھ آیا بھرے بازار میں ہے مدد کا وقت یا اچھے میاں مجرمِ ناکارہ و دیوانِ عذل ہے مدد کا وقت یا اچھے میاں پوچھتے ہیں کیا کہا تھا کیا کیا ہے مدد کا وقت یا اچھے میاں پا شکستہ اور عُبورِ پُل صراط ہے مدد کا وقت یا اچھے میاں خائن و خاطی سے لیتے ہیں حساب ہے مدد کا وقت یا اچھے میاں بھول جاؤں نہ میں سیدھی راہ کو میرے اچھے رہنما اچھے میاں تم مجھے اپنا بنا لو بہرِ غوث میں تمہارا ہو چکا اچھے میاں کون دے مجھ کو مرادیں آپ دیں میں ہوں کس کا آپ کا اچھے میاں یہ گھٹائیں غم کی یہ روزِ سیاہ مہرِ فرما مہِ لقا اچھے میاں احمدِ نوری کا صدقہ ہر جگہ منہ اُجالا ہو مرا اچھے میاں آنکھ نیچی دونوں عالم میں نہ ہو بول بالا ہو مرا اچھے میاں میرے بھائی جن کو کہتے ہیں رضا جو ہیں اس در کے گدا اچھے میاں اُن کی منہ مانگی مرادیں ہوں حُصول آپ فرمائیں عطا اچھے میاں عُمر بھر میں اُن کے سایہ میں رہوں اُن پہ سایہ آپ کا اچھے میاں مجھ کو میرے بھائیوں کو حَشر تک ہو نہ غم کا سامنا اچھے میاں مجھ پہ میرے بھائیوں پر ہر گھڑی ہو کرم سرکار کا اچھے میاں مجھ سے میرے بھائیوں سے دُور ہو دُکھ مرض ہر قِسم کا اچھے میاں میری میرے بھائیوں کی حاجتیں فَضل سے کیجے روا اچھے میاں ہم غلاموں کے جو ہیں لختِ جگر خوش رہیں سب دائما اچھے میاں پنجتن کا سایہ پانچوں پر رہے اور ہو فَضلِ خدا اچھے میاں سب عزیزوں سب قریبوں پر رہے سایہ فَضل و عَطا اچھے میاں غوثِ اعظم قُطبِ عالم کے لیے رَد نہ ہو میری دعا اچھے میاں ہو حُسنِ سرکار والا کا حُسن کیجیے ایسی عَطا اچھے میاں