Home/Muhammad Ilyas Attar Qadri/Marhaba Aaj Chalein Ge Shah-e-Abrar Ke Paas

مرحبا آج چلیں گے شہِ ابرار کے پاس

Written by Muhammad Ilyas Attar Qadri

100%
مرحبا آج چلیں گے شہِ ابرار کے پاس (الحمد للہ عزوجل ۱۴۲۲ھ تا ۱۴۲۳ھ کے سفرِ مدینہ میں حرمین طیبین میں یہ کلام قلمبند کیا) مرحبا آج چلیں گے شہِ ابرار کے پاس إن شاء اللہ پہنچ جائیں گے سرکار کے پاس پیش کرنے کیلئے کچھ نہیں بدکار کے پاس ڈھیروں عصیاں ہیں گنہگاروں کے سردار کے پاس مل چکا اذنِ مبارک ہو مدینے کا سفر قافلے والو چلو چلتے ہیں سرکار کے پاس خوب رو رو کے وہاں غم کا فسانہ کہنا غمزدہ آؤ چلو احمدِ مختار کے پاس میں گنہگار گناہوں کے سوا کیا لاتا نیکیاں ہوتی ہیں سرکارِ نکوکار کے پاس سر بھی خم آنکھ بھی نم، شرم سے پانی پانی کیا کرے نذر نہیں کچھ بھی گنہگار کے پاس آنکھ جب گنبدِ خضرا کا نظارہ کر لے دم نکل جائے مرا آپ کی دیوار کے پاس عرصہِ حشر میں جب روتا بلکتا دیکھا رَحَم کھاتے ہوئے دوڑ آئے وہ بدکار کے پاس مجرمو! اتنا بھی گھبراؤ نہ محشر میں تم مل کے چلتے ہیں سبھی اپنے مددگار کے پاس دونوں عالم کی بھلائی کا سوالی بن کر اک بھکاری ہے کھڑا آپ کے دربار کے پاس شاہ والا یہ مدینے کا بنے دیوانہ اک بھکاری ہے کھڑا آپ کے دربار کے پاس اپنا غم چشمِ نم اور رِقّتِ قلبی دیجے اک بھکاری ہے کھڑا آپ کے دربار کے پاس اُلفتِ ناب لے ملے اور دلِ بے تاب ملے اک بھکاری ہے کھڑا آپ کے دربار کے پاس حسنِ اخلاق ملے بھیک میں اخلاص ملے اک بھکاری ہے کھڑا آپ کے دربار کے پاس از پئے غوثِ ورضا قُفلِ مدینہ مل جائے اک بھکاری ہے کھڑا آپ کے دربار کے پاس استقامت اسے ایماں پہ عطا کر دیجے اک بھکاری ہے کھڑا آپ کے دربار کے پاس ہے مدینے میں شہادت کا یہ منگتا مولیٰ اک بھکاری ہے کھڑا آپ کے دربار کے پاس قبر و محشر میں اماں کا ہے طلبگار حُضور! اک بھکاری ہے کھڑا آپ کے دربار کے پاس نارِ دوزخ سے رہائی کا ملے پروانہ اک بھکاری ہے کھڑا آپ کے دربار کے پاس اس کو جنت میں جوار اپنا عطا ہو داتا اک بھکاری ہے کھڑا آپ کے دربار کے پاس آپ سے آپ ہی کا ہے یہ سوالی آقا اک بھکاری ہے کھڑا آپ کے دربار کے پاس قبر میں یوں ہی نکیرو! نہیں آیا واللہ ہے غلامی کی سند دیکھ لو عطّار کے پاس