بہارِ باغِ ایماں حضرتِ فاروقِ اعظم ہیں
چراغِ بزمِ عرفاں حضرتِ فاروقِ اعظم ہیں
نمایاں آپ کی ہر اک ادا سے شانِ فاروقی
خدا کی تیغِ بُراں حضرتِ فاروقِ اعظم ہیں
اَشِدَّاءُ عَلَی الْکُفَّارِ کے مصداقِ اَعلیٰ ہیں
مُذِلُّ کُفر و طغیاں حضرتِ فاروقِ اعظم ہیں
رسولِ اللہ نے فاروق کو اللہ سے مانگا
عطاءِ ربِ سبحاں حضرتِ فاروقِ اعظم ہیں
پھنسا اس پاک نے دیں کیلئے اس پاک تھرے کو
حبیبِ دیںِ داراں حضرتِ فاروقِ اعظم ہیں
حبیبِ حق ہیں طیب ان کے سب ساتھی بھی طاہر ہیں
چنیدہ بہرِ پاکاں حضرتِ فاروقِ اعظم ہیں
نہ کیوں وہ ذات چمکے جس نے دیں پاک چمکایا
جہاں کے مہرِ تاباں حضرتِ فاروقِ اعظم ہیں
عمرؔ ہیں دیں کے حق تعالیٰ ان کا ناصر ہے
دِلِ مومن کے تاباں حضرتِ فاروقِ اعظم ہیں
رہے گا نام ان کا تا ابد کونین میں روشن
سپہرِ دیں پہ رخشانِ حضرتِ فاروقِ اعظم ہیں
عمرؔ کافی نبی کو حَسْبُکَ اللہ سے یہ ثابت ہے
ہے شاہد جن پہ قرآں حضرتِ فاروقِ اعظم ہیں
وہ عالم دبدبہ کا کانپتے ہیں قیصر و کسریٰ
ہے جن سے دیں کی شاں حضرتِ فاروقِ اعظم ہیں
خزانے روم و فارس کے لٹاتے ہیں مدینہ میں
فیوضِ حق کے باراں حضرتِ فاروقِ اعظم ہیں
مگر اس ۱ حال میں دھودھو کر اِک کرتا پہنتے ہیں
ہے تقویٰ جن پہ نازاں حضرتِ فاروقِ اعظم ہیں
مسلماں رات بھر سوئیں عمر فاروق پہرا دیں
رعایا کے نگہباں حضرتِ فاروقِ اعظم ہیں
پکارا ساریہ ۲ کو اِک مہینہ کی مسافت سے
جسے ہر جا ہو یکساں حضرتِ فاروقِ اعظم ہیں
ہیں دامادِ علی و نازنینِ حضرتِ زہرہ
ہے سالک جن پہ نازاں حضرتِ فاروقِ اعظم ہیں