ہو گیا تجھ سے خدا ناراض اگر
قبر سُن لے آگ سے جائیں گی بھر
عمر میں چھوٹی ہے گر کوئی نماز
جلد ادا کر لے تُو غفلت سے باز
اے جواری تُو جوئے سے باز آ
ورنہ پھنس جائے گا جس دن تُو مرا
اے ملاوٹ کرنے والے مان جا
خوف کر بھائی عذابِ نار کا
چھوڑ دو اے تاجرو! کم تولنا
جھوٹ چھوڑو بیچنے میں بولنا
بھائیوں کا دل دکھانا چھوڑ دو
اور تمسخر بھی اڑانا چھوڑ دو
سود و رشوت میں نجاست ہے بڑی
نیز دوزخ میں سزا ہوگی کڑی
دل دکھانا چھوڑ دیں ماں باپ کا
ورنہ ہے اس میں خسارہ آپ کا
بدگمانی، جھوٹ، غیبت، چغلیاں
چھوڑ دے تُو رب کی نافرمانیاں
مت نکالو گندی گالیاں
یہ گنہ کا کام ہے سُن لو میاں
تُو نشے سے باز آ مت پی شراب
دو جہاں ہو جائیں گے ورنہ خراب
فلم میں کی آنکھ میں محشر میں آگ
آہ! بھر جائیں گی تُو فلموں سے بھاگ
بینڈ باجوں سے تُو کوسوں دُور بھاگ
ورنہ دوزخ کی تجھے کھائے گی آگ
مت بجاؤ بھائیو! تم تالیاں
اس طرح کی چھوڑ دو نادانیاں
اے مری بہنو! سدا پردہ کرو
تم گلی کو چوں میں مت پھرتی رہو
اپنے دیور جیٹھ سے پردہ کرو
ان سے ہرگز بے تکلف مت بنو
ورنہ سُن لو قبر میں جب جاؤ گی
سانپ بچھو دیکھ کر چلاؤ گی
اے بہن اپنے میاں کو مت ستا
جب مرے گی پائے گی اس کی سزا
بھائی حق مت مارنا گھر بار کا
ورنہ ہوگا مستحق تُو نار کا
یا الٰہی! نیک کر عطار کو
بخش دے تُو بخش دے بدکار کو