مرے مشتاق کو کوئی دوا دو یا رسول اللہ
(دعوت اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے مرحوم نگران حاجی مشتاق عطاری علیہ رحمۃ الباری کی سخت
علالت کے ایام میں بارگاہِ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میں یہ استغاثہ پیش کیا گیا)
مرے مشتاق کو کوئی دوا دو یا رسول اللہ
دوا کر شفا ئے کاملہ دعا دو یا رسول اللہ
طبیبوں نے مریضِ لا دوا کہہ کہہ کے ٹالا ہے
بنا ناکام ان کا عندیہ دو یا رسول اللہ
مرا مشتاق مولیٰ کب تڑپے گا بے چارہ
دعا بھی دو دوا بھی دو شفا دو یا رسول اللہ
مرے مشتاق کے اجڑے چمن میں پھر بہار آئے
کلی پُر مردہ دل کی تم کھلا دو یا رسول اللہ
مرے مشتاقِ رنجیدہ پہ ہو چشمِ کرم آقا
بیچارے غم کے مارے کو ہنسا دو یا رسول اللہ
کرم سے اب سرِ بالیں شہا تشریف لے آؤ
اسے دیدار کا شربت پلا دو یا رسول اللہ
شفا پا کر یہ نعمتیں پڑھ کے پھر تڑپانے لگ جائے
لُعابِ اپنا اسے آکر پلا دو یا رسول اللہ
شہامشتاق کب تک در بدر کی ٹھوکریں کھائے
کہاں جائے بچارا تم بتا دو یا رسول اللہ
کرم کر دو ترس کھاؤ دکھی دل کی صدا سن لو
بلامشتاق سے ہر اک ہٹا دو یا رسول اللہ
سنو یا مت سنو یہ رٹ لگائے جائیں گے ہم تو
شفادو یارِ رسول اللہ شفا دو یا رسول اللہ
فَقَط امراضِ جسمانی کی ہی کرتا نہیں فریاد
گناہوں کے مرض سے بھی شفا دو یا رسول اللہ
یہ پھر نیکی کی دعوت کے لئے دوڑے جہاں بھر میں
مرے مشتاق کو ایسا بنا دو یا رسول اللہ
شہامشتاق کو حج کی سعادت پھر عطا کر دو
بلا کر سبز گنبد بھی دکھا دو یا رسول اللہ