محبت میں اپنی گما یا الہی نہ پاؤں میں اپنا پتا یا الہی
رہوں مست و بے خود میں تیری ولا میں پلا جام ایسا پلا یا الہی
میں بے کار باتوں سے نیچ کے ہمیشہ کروں تیری حمد و ثنا یا الہی
مرے اشک بہتے رہیں کاش ہر دم ترے خوف سے یا خدا یا الہی
ترے خوف سے تیرے ڈر سے ہمیشہ میں تھرتھر رہوں کانپتا یا الہی
مرے دل سے دنیا کی چاہت مٹا کر کر اُلفت میں اپنی فنا یا الہی
تو اپنی ولایت کی خیرات دیدے مرے غوث کا واسطہ یا الہی
گناہوں نے میری کمر توڑ ڈالی مرا حشر میں ہوگا کیا یا الہی
گناہوں کے امراض سے نیم جاں ہوں پئے مرشدی دے شفا یا الہی
بنادے مجھے نیک نیکوں کا صدقہ گناہوں سے ہر دم بچا یا الہی
مرا ہر عمل بس ترے واسطے ہو کر اخلاص ایسا عطا یا الہی
عبادت میں گزرے مری زندگانی کرم ہو کرم یا خدا یا الہی
مسلماں ہے عطار تیری عطا سے ہو ایمان پر خاتمہ یا الہی