مجھ کو اللہ سے محبّت ہے یہ اُسی کی عطا و رحمت ہے
جس کو سرکار سے محبّت ہے اُس کی بخشش کی یہ ضمانت ہے
دل میں قرآں کی میرے عظمت ہے اور پیاری ہر ایک سنّت ہے
سب سے اچھی نبی کی سیرت ہے چاند سے بھی حسیں صورت ہے
مل گئی مجھ کو تیری نسبت ہے یہ شرف ہے بڑی سعادت ہے
آل و اصحاب سے محبّت ہے اور سب اولیا سے اُلفت ہے
یہ سب اللہ کی عنایت ہے مل گئی مُصطفٰےؐ کی امّت ہے
غوث و خواجہ کی دل میں اُلفت ہے قلب میں عشقِ اعلٰی حضرت ہے
مرحبا! اپنی خوب قسمت ہے پیرو مرشد کی دل میں چاہت ہے
عاشقانِ نبی سے الفت ہے دُشمنانِ نبی سے نفرت ہے
ہائے دنیا کی دل میں چاہت ہے نفس کی یہ کھلی شرارت ہے
نہ طلبگارِ مال و دولت ہے اس گدا کو کرم کی حاجت ہے
دو جہاں میں وہی سلامت ہے جس مسلمان پہ رب کی رحمت ہے
یا نبی! پھنس گیا ہلاکت ہے یہ گدا سائلِ شفاعت ہے
حق سے اُمید عفو و رحمت ہے تیرے صدقے میں ملنی جنت ہے
ایک عرصے سے دل میں رغبت ہے سوئے طیبہ چلوں یہ حسرت ہے
ایک مدت سے ہجر و فرقت ہے کیا مدینے کی اب اجازت ہے؟
آہ! پلے نہ کچھ تلاوت ہے نہ دُرودوں کی کوئی کثرت ہے
آہ! عصیاں کی خوب کثرت ہے یا نبی! التجائے رحمت ہے
ایسی عصیاں کی پڑگئی لت ہے پھر وہی بعد توبہ حالت ہے
نیک بندوں پہ رب کی رحمت ہے ہر گنہ باعثِ ہلاکت ہے
آگیا آہ! وقتِ رحلت ہے یہ گدا طالبِ زیارت ہے
آنکھ نم ہے نہ کچھ ندامت ہے آہ! اعمال کی یہ شامت ہے
موت سر پر ہے تجھ پہ حیرت ہے جاگ کیوں محوِ خوابِ غفلت ہے
تیری عطار کیا حقیقت ہے جو ہے سرکار کی بدولت ہے