مجھ کو پہنچا دے خدا احمد مختار کے پاس
حالِ دل عرض کروں سیدِ ابرار کے پاس
جس کو دیکھو وہ اسی در پہ چلا آتا ہے
بھیڑ ہے شاہ و گدا کی درِ سرکار کے پاس
بے طلب جس کو جو چاہیں وہ عطا کرتے ہیں
سب خزانے ہیں مرے مالک و مختار کے پاس
دولت و فضل و کرم نعمت و جاہ و اقبال
کونسی چیز نہیں ہے مرے سرکار کے پاس
بادشاہانِ جہاں دستِ نگر ہیں اُن کے
ہاتھ پھیلائے کھڑے رہتے ہیں دربار کے پاس