Home/Muhammad Ilyas Attar Qadri/Mujhay Bakhsh De Be-Sabab Ya Ilahi

Mujhay Bakhsh De Be-Sabab Ya Ilahi

Written by Muhammad Ilyas Attar Qadri

100%
مجھے بخش دے بے سبب یا الہی نہ کرنا کبھی بھی غضب یا الہی گناہوں نے ہائے کہیں کا نہ چھوڑا میں کب تک پھروں خوار اب یا الہی پئے شاہِ بطحا بری چھوٹ جائیں بُری عادتیں سب کی سب یا الہی بڑا حج پہ آنے کو جی چاہتا ہے بلاوا اب آئیگا کب یا الہی میں مکے میں آؤں مدینے میں آؤں بنا کوئی ایسا سبب یا الہی میں دیکھوں مدینے کا گلشن دکھادے تو دشت و جبل عرب یا الہی کرم ایسا کر دے مدینے میں آکر گزاروں میں پھر روز و شب یا الہی دکھا دے بہارِ مدینہ دکھا دے پئے تاجدارِ عرب یا الہی سلیقہ شعاری کا میں ہوں بھکاری مٹے ہوئے شور و شغب یا الہی ملے بیقراری کروں آہ وزاری ترے خوف سے پیارے رب یا الہی کروں عالموں کی کبھی بھی نہ توہین، بنا دے مجھے با ادب یا الہی حسین ابن حیدر کے صدقے میں مولیٰ، ٹلیں آفتیں میری سب یا الہی زمانے کی فکروں سے آزاد کر دے، مٹا غم عطا کر طرب یا الہی جو مانگا وہ دے مجھ کو وہ بھی عطا کر، نہیں کر سکا جو طلب یا الہی مسلماں مسلماں کے خوں کا پیاسا، ہوا وقت آیا عجب یا الہی سبھی ایک ہو جائیں ایمان والے، بنے شاہ عالی نسب یا الہی کبھی تو مجھے خواب میں میرے مولیٰ، ہو دیدار ماہِ عرب یا الہی خدایا بُرے خاتمے سے بچا لے، گنہگار ہے جاں بلب یا الہی نظر میں محمدؐ کے جلوے بسے ہوں، چلوں اس جہاں سے میں جب یا الہی پسِ مرگ ہو روزِ روشن کی مانند، مری قبر کی تیرہ شب یا الہی گناہوں سے عطارؔ کو دے معافی کرم کر، نہ کرنا غضب یا الہی