مجھے مدینے کی دو اجازت، نبی رحمت شفیع اُمت
پلاؤ بلوا کے جامِ الفت، نبی رحمت شفیع اُمت
اگر نہیں میری ایسی قسمت، سدا حضوری کی پاؤں لذت
رُلائے مجھ کو تمہاری فرقت، نبی رحمت شفیع اُمت
عطا ہو مجھ کو غمِ مدینہ، تپاں جگر چاک چاک سینہ
بڑھے محبت کی خوب شدت، نبی رحمت شفیع اُمت
لگاؤ سینے میں آگ ایسی، قرار پائے نہ دل کبھی بھی
رُلائے ہر دم تمہاری الفت، نبی رحمت شفیع اُمت
میں نام پر تیرے واری جاؤں، میں عشق میں تیرے گھر لٹاؤں
ملے وہ جذبہ ملے وہ ہمت، نبی رحمت شفیع اُمت
حسین ابنِ علی کا صدقہ، ہمارے غوثِ جلی کا صدقہ
عطا مدینے میں ہو شہادت، نبی رحمت شفیع اُمت
ہر اک نبی ہر ولی کا صدقہ، تجھے تری ہر گلی کا صدقہ
دے طیبہ میں مرنے کی سعادت، نبی رحمت شفیع اُمت
امام احمد رضا کا صدقہ، ہمارے مرشد ضیاء کا صدقہ
بقیعِ غرقد کرو عنایت، نبی رحمت شفیع اُمت
وسیلہ خلفائے راشدین کا، تمام اَصحاب و تابعین کا
جوار جنت میں ہو عنایت، نبی رحمت شفیع اُمت
مجھے تم ایسی دو ہمت آقا، دوں سب کو نیکی کی دعوت آقا
بنادو مجھ کو بھی نیک خصلت، نبی رحمت شفیع اُمت
قلیل روزی پہ دو قناعت، فُضول گوئی سے دیدو نفرت
دُرود پڑھتا رہوں بکثرت نبی رحمت شفیع اُمت
گنہ کے دلدل سے اب نکالو، مجھے سنبھالو مجھے بچالو
کہیں نہ ہوجاؤں تباہ! غارت، نبی رحمت شفیع اُمت
بنادو صبر و رضا کا پیکر، بنوں خوش اخلاق ایسا سرور
رہے سدا نَرم ہی طبیعت، نبی رحمت شفیع اُمت
نہ ہو عطا اس کو مال و دولت، نہ دیجے عطار کو حکومت
یہ تیرا طالب ہے جانِ رحمت، نبی رحمت شفیع اُمت