نہ چھیڑو ذکرِ جنت اب مدینہ یاد آیا ہے
نبی کا سبز گنبد دل کی آنکھوں میں سمایا ہے
ملا کرتی ہیں منہ مانگی مرادیں تیرے روضے پر
غلاموں نے تیرے در سے جو مانگا ہے وہ پایا ہے
نظر آتا ہے اونچا آسمانوں سے ترا گنبد
بلند عرشِ معظم سے تری تُربت کا پایا ہے
نہ ہوتا تُو اگر تو ایں و آں کچھ بھی نہ ہوتا
ترے باعث یہ سارا باغِ عالم لہلہایا ہے
خدا کی سلطنت کے تم ہو دولہا یا رسول اللہ
تمہارے واسطے رب نے یہ سب عالم سجایا ہے
شبِ اسراء مبارک تھی یہ حور و غلماں میں
محمد کو خدائے پاک نے دولہا بنایا ہے
تو ہے آئینہ وحدت کوئی کب مثل ہے تیرا
تو ہے سایہ خدا کا دو جہاں پر تیرا سایہ ہے