نہ ہو مایوس دیوانو جاؤ تم ان کو
بلائیں گے تمہیں بھی ایک دن سرورِ مدینے میں
بلالو ہم غریبوں کو بُلا لو یا رسول اللّٰہ
پئے شبیر و شبّر فاطمہ حیدر مدینے میں
خدایا واسطہ دیتا ہوں میرے غوثِ اعظم کا
دکھا دے سبز گنبد کا حسیں منظر مدینے میں
وسیلہ تجھ کو ابوبکر و عمر، عثمان و حیدر کا
الہی تو عطا کر دے ہمیں بھی گھر مدینے میں
مدینے جب میں پہنچوں کاش ایسا کیف طاری ہو
کہ روتے روتے گر جاؤں میں غش کھا کر مدینے میں
نقاب رُخ اُلٹ جائے ترا جلوہ نظر آئے
جب آئے کاش! تیرا سائل بے پَر مدینے میں
جو تیری دید ہو جائے تو میری عید ہو جائے
غم اپنا دے مجھے عیدی میں بلوا کر مدینے میں
مدینے جوں ہی پہنچا اشک جاری ہو گئے میرے
دَمِ رخصت بھی رویا ہچکیاں بھر کر مدینے میں
مدینے کی جدائی عاشقوں پر شاق ہوتی ہے
وہ روتے ہیں تڑپ کر ہچکیاں بھر کر مدینے میں
کہیں بھی سوز ہے دنیا کے گلزاروں میں باغوں میں؟
فضا پُرکیف ہے لو دیکھ لو آ کر مدینے میں
وہاں اِک سانس مل جائے یہی ہے زیست کا حاصل
وہ قسمت کا دھنی ہے جو گیا دم بھر مدینے میں
مدینہ جنت الفردوس سے بھی اولیٰ و اعلیٰ
رسولِ پاک کا ہے روضۂ انور مدینے میں
چلو چوکھٹ پہ ان کی رکھ کے سر قربان ہو جائیں
حیاتِ جاودانی پائیں گے مرکز مدینے میں
مدینہ میرا سینہ ہو مرا سینہ مدینہ ہو
مدینہ دل کے اندر ہو دلِ مُضطَر مدینے میں
مجھے نیکی کی دعوت کیلئے رکھو جہاں بھی کاش!
میں خوابوں میں پہنچتا ہی رہوں اکثر مدینے میں
نہ دولت دے نہ ثروت دے مجھے بس یہ سعادت دے
ترے قدموں میں مر جاؤں میں رو رو کر مدینے میں
عطا کر دو عطا کر دو بقیع پاک میں مدفن
مری بن جائے تُربت یا شہِ کوثر مدینے میں
مدینہ اس لیے عطار جان و دل سے ہے پیارا
کہ رہتے ہیں مرے آقا مرے سرور مدینے میں