نہ کیوں ہو مجھ کو مقدر پہ اپنے ناز اگر
سگانِ طیبہ میں میرا بھی نام ہو جائے
نظر سے دور ہو اِک پل اگر جمالِ حضور
مریضِ عشق کو جینا حرام ہو جائے
یہ کہہ رہا ہے فَتَرْضٰی کہ غیر ممکن ہے
خلافِ مرضیِ محبوب کام ہو جائے
اَدب سے شرم سے منہ ڈھانپ لے کرے سجدہ
جو سامنے کبھی ماہِ تمام ہو جائے
شکار مجھ کو نہ کر نفس ہوں غلامِ حضور
نہ ٹکڑے ٹکڑے کہیں تیرا دام ہو جائے
جمیلِ قادری رضوی کا خاتمہ بالخیر
طفیلِ حضرتِ خیر الانام ہو جائے