Home/Imam Ahmad Raza Khan Qadri/Naimatein Banta Jis Simt Woh Zeeshan Gaya

Naimatein Banta Jis Simt Woh Zeeshan Gaya

Written by Imam Ahmad Raza Khan Qadri

100%
نعمتیں بانٹتا جس سُمت وہ ذیشان گیا ساتھ ہی مُنشیِ رحمت کا قلم دان گیا لے خبر جلد کہ غیروں کی طرف دھیان گیا میرے مولیٰ مرے آقا ترے قربان گیا آہ وہ آنکھ کہ ناکام تمنا ہی رہی ہائے وہ دل جو ترے در سے پُر ارمان گیا دل ہے وہ دل جو تری یاد سے معمور رہا سر ہے وہ سر جو ترے قدموں پہ قربان گیا انھیں جانا انھیں مانا نہ رکھا غیر سے کام لِلّٰہِ الْحَمْد میں دُنیا سے مسلمان گیا اور تم پر مرے آقا کی عنایت نہ سہی نجدیو! کلمہ پڑھانے کا بھی احسان گیا آج لے اُن کی پناہ آج مدد مانگ اُن سے پھر نہ مانیں گے قیامت میں اگر مان گیا اُف رے منکر یہ بڑھا جوشِ تعصب آخر بھیڑ میں ہاتھ سے کمبخت کے ایمان گیا جان و دل ہوش و خرد سب تو مدینے پہنچے تم نہیں چلتے رضاؔ تو سامان گیا اشک جاری ہو جاتے ذکرِ رسول کے وقت صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم پر رقت طاری ہو جاتی اور اشک جاری ہو جاتے چنانچہ سیدنا عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ تعالیٰ علیہ وسلم کا تذکرہ فرماتے تو آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے تھے۔ (الطبقات الکبری لابن سعد، تذکرۃ عبد اللہ بن عمر، ج ٤، ص ١٢٧، دار الکتب العلمیہ بیروت) کاش! ہمیں بھی یہ سعادت نصیب ہو جاتی! رونے والی آنکھیں رونا سب کا کام نہیں ذکرِ محبت عام ہے لیکن سوز محبت عام نہیں