Home/Allama Hasan Raza Khan/Najdiya sakht hi gandi hai tabiyat teri

نجدیا سخت ہی گندی ہے طبیعت تیری

Written by Allama Hasan Raza Khan

100%
نجدیا سخت ہی گندی ہے طبیعت تیری کفر کیا شرک کا فضلہ ہے نجاست تیری خاک منہ میں ترے کہتا ہے کسے خاک کا ڈھیر مٹ گیا دین ملی خاک میں عزت تیری تیرے نزدیک ہوا کذبِ الہی ممکن تجھ پہ شیطان کی پھٹکار یہ ہمت تیری بلکہ گنّاب کیا تو نے اقرارِ وقوع اُف رے ناپاک یہاں تک ہے خباثت تیری علمِ شیطان کا ہوا علمِ نبی سے زائد پڑھوں لاحول نہ کیوں دیکھ کے صورت تیری بزمِ میلاد ہو کانا لے کے جنم سے بدتر ارے اندھے ارے مردود یہ جرات تیری علمِ غیبی میں مجانین و بہائم کا شمول کفر آمیز جنوں زا ہے جہالت تیری یادِ خر سے ہو نمازوں میں خیال اُن کا بُرا اُف جہنم کے گدھے اُف یہ خرافات تیری اُن کی تعظیم کرے نہ اگر وقتِ نماز ماری جائے گی ترے منہ پہ عبادت تیری ہے کبھی بُوم کی جلت تو کبھی زاغ حلال جیفہ خواری کی کہیں جاتی ہے عادت تیری بس کی چال تو کیا آتی گئی اپنی بھی اجتہادوں ہی سے ظاہر ہے حماقت تیری کھلے لفظوں میں کہے قاضی شوکاں مدد دے یا علی سُن کے بگڑ جائے طبیعت تیری تیری اٹکے تو وکیلوں سے کرے استمداد اور طبیبوں سے مدد خواہ ہو علّت تیری حشر کا دن نہیں جس روز کسی کا کوئی اس قیامت میں جو فرمائیں شفاعت تیری اُن کے دشمن سے تجھے رب رہے میل رہے شرم اللہ سے کر کیا ہوئی غیرت تیری تو نے کیا باپ کو سمجھا ہے زیادہ اُن سے جوش میں آئی جو اس درجہ حرارت تیری ان کے دشمن کو اگر تو نے نہ سمجھا دشمن وہ قیامت میں کریں گے نہ رفاقت تیری اُن کے دشمن کا جو دشمن نہیں سچ کہتا ہوں دعوٰی بے اصل ہے جھوٹی ہے محبت تیری بلکہ ایمان کی پوچھے تو ہے ایمان یہی اُن سے عشق اُن کے عدو سے ہو عداوت تیری اہلسنّت کا عمل تیری غزل پر ہو حسن جب میں جانوں کہ ٹھکانے لگی محنت تیری