نقاب اپنے رُخ سے اُٹھا غوثِ اعظم مجھے اپنا جلوہ دکھا غوثِ اعظم
مجھے ایسا شیدا بنا غوثِ اعظم کہ ہو جاؤں تجھ پر فدا غوثِ اعظم
مرے پیرِ روشن ضمیر آپ کو تو مرے حال کا ہے پتا غوثِ اعظم
تمہارے ہیں جتنے مرید اُن سبھی میں برا ہوں، بنا دو بھلا غوثِ اعظم
بروزِ قیامت ہمیں اپنے جھنڈے تلے دیجئے گا جگہ غوثِ اعظم
جو بیماریوں میں گھرے ہیں انہیں تم دلا دو خدا سے شِفا غوثِ اعظم
مریدین کو جو ستاتے ہیں جنات خدارا انہیں دو بھگا غوثِ اعظم
نظر سے یا جادو سے جو ہیں پریشان ہو اُن پر بھی چشمِ عطا غوثِ اعظم
کلیجا شیاطین کا تھرا اُٹھے گا پکارو سبھی مل کے یا غوثِ اعظم
سجائیں عمامہ بڑھائیں جو داڑھی انہیں حشر میں بخشوا غوثِ اعظم
وہ بہنیں جو پہنیں سدا مدنی بُرقع انہیں حشر میں بخشوا غوثِ اعظم
جو ہیں وقفِ سنّت کی خاطر انہیں حشر میں بخشوا غوثِ اعظم
جو روزانہ دیتے ہیں نیکی کی دعوت انہیں حشر میں بخشوا غوثِ اعظم
سفر قافلے میں جو کرتے ہیں ہر ماہ انہیں حشر میں بخشوا غوثِ اعظم
جو دیں راہِ مولیٰ میں بارہ مہینے انہیں حشر میں بخشوا غوثِ اعظم
جو اپناتے ہیں مدنی انعام اکثر انہیں حشر میں بخشوا غوثِ اعظم
دَمِ نزع پانی اُترتا نہیں ہے پلا شربتِ دید یا غوثِ اعظم
ہے عطّار کو سلبِ ایماں کا ڈر کا بچا اس کا ایماں بچا غوثِ اعظم