قافلہ آج مدینے کو روانہ ہوگا
(الحمدللہ عَزَّوَجَلَّ ذوالحجۃ الحرام شریف ١٤١٦ھ کو روانگی مدینہ منورہ زادھا اللہ شرفاً و تعظیماً سے قبل مکہ مکرمہ زادھا اللہ شرفاً و تعظیماً میں یہ کلام تحریر کرنے کی سعادت حاصل ہوئی)
قافلہ آج مدینے کو روانہ ہوگا
عنقریب اپنا مدینے میں ٹھکانا ہوگا
لب پہ نغماتِ محمد کا ترانہ ہوگا
جھومتے جھومتے دیوانہ روانہ ہوگا
کس قدر زائرِ! وہ وقت سہانا ہوگا
روبرو جب درِ سلطانِ زمانہ ہوگا
درد و آلام کا جب لب پہ فسانہ ہوگا
ابرِ رحمت کے برسنے کا بہانہ ہوگا
نیکیاں پلے مدینے کے مسافر کے کہاں!
آنسوؤں کا مری جھولی میں خزانہ ہوگا
اتنی بے تاب نہ ہو آنے دے طیبہ کی گلی
رُوحِ مُضطر تجھے کچھ وقت بڑھانا ہوگا