نبی آج پیدا ہوا چاہتا ہے
یہ کعبہ گھر اس کا ہوا چاہتا ہے
عَلَم نصب ہے جس کا کعبہ کی چھت پر
بلند اس کا شُہرہ ہوا چاہتا ہے
نہ کیوں آج کعبہ بنے رَشکِ گلشن
وہ گُل جلوہ فرما ہوا چاہتا ہے
یہ رورو کے آپس میں بت کہہ رہے ہیں
خدا جانے اب کیا ہوا چاہتا ہے
تڑی ہے سماوا میں ساوا میں خُشکی
نیا اب زمانہ ہوا چاہتا ہے
ندا آ رہی ہے کہ حق کے قمر کا
جہاں میں اجالا ہوا چاہتا ہے